اتوار‬‮ ، 08 مارچ‬‮ 2026 

تعلقات تاریخ کی سرد ترین مرحلے میں داخل ،ریڈ لائن عبورکرنے پر پاکستان کا امریکہ کیخلاف انتہائی اقدام

datetime 29  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد( آن لائن ) امریکہ کے جنوبی ایشیاء پالیسی میں پاکستان کی ریڈ لائن عبور کرنے پر پاکستان کا امریکہ کے حوالے سے فی الحال مزاکرات نہ کرنے کا فیصلہ ۔پاک امریکہ تعلقات تاریخ کی سرد ترین مرحلے میں داخل ہوگئے۔اسلام آباد کی جانب سے امریکی وفد کو خوش آمدید نہ کہنے کے فیصلے نے امریکہ میں فیصلہ سازی سے متعلق اہم اداروں کو جنوبی ایشیاء پالیسی کے حوالے سے حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر غور کرنے کافیصلہ ۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف جلد چین ، روس اور اتحادی ممالک کا دورہ کرینگے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان اور جنوبی ایشیاء پالیسی پر پاکستان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور فی الحال امریکہ کے ساتھ اس معاملے میں مزاکرات سے گریز کیا جائے۔ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ رابطے تیز کردیے ہیں، اور وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف بہت جلد چین ، روس اور دیگر اتحادی ممالک کے دورے کرینگے اور امریکی صدر کی پالیسی کے بارے میں لائحہ عمل اختیار کرینگے۔ ذرائع کے مطابق عید کے دنوں میں وزیر خارجہ چین کے دورہ کی توقع ہے۔ آئن لائن سے امریکی اور پاکستانی ذرائع سے گفتگو کے بعد یہ تجزیہ اخذ کیا ہے کہ چین اور روس جنوبی ایشیاء میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ، جس کی وجہ سے پاکستان نے امریکی پالیسی پر سخت ردعمل کا اظہار کیاہے۔ امریکی فیصلہ ساز اداروں نے حالیہ فیصلہ سازی کرتے وقت پاکستان کے موجودہ حالات کو نظر انداز کیا۔سینئر تجزیہ نگار کے مطابق پاکستان کے موجودہ حالات 2001ء سے یکسر مختلف ہیں۔ دوسری طرف افغانستان میں امریکی پالیسی کو مکمل حمایت حاصل نہیں ، اگرچہ اشرف غنی نے امریکی پالیسی کے حق میں بیان دیامگر سابق صدر حامد کرزئی نے امریکہ کی حالیہ پالیسی برائے افغانستان اور جنوبی ایشیاء پر سخت تنقید کی ہے۔ چین ایک بین الاقوامی مضبوط معیشت اور پاکستان کا حمایتی ہے اور سپر پاور روس کا جنوبی ایشیاء میں اہم کردار ہے۔چین اور روس پاکستان کے مکمل حمایت کا اعلان کرچکے ہیں۔

حکومتی وزیر نے نام نہ ظاہر کرنے پر آئن لائن کو بتا یا کہ پاکستان کے لئے امریکہ کے تسلط سے نکلنے کا سنہری موقع ہے تاکہ خطے میں اپنا مقام بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے اور وہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف امریکی سفارتی ذرائع کے مطابق فیصلہ سازی کے اداروں نے پاکستان کے ردعمل کے بعد امریکی پالیسی برائے افغانستان اور جنوبی ایشیا ء کی حالیہ پالیسی کے بارے میں حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…