منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

’’رد النثار ‘‘ آپریشن کیا جائے تو دہشتگردی ختم ہو جائے گی سینئر سیاستدان کے بیان نے ہنگامہ کھڑا کر دیا

datetime 26  فروری‬‮  2017 |

کراچی(آن لائن)پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ اگرردالفساد کی بجائے ’’ردالنثار‘‘ آپریشن کیا جائے تو دہشت گردی ختم ہو جائیگی،جس ملک میں دہشت گردوں کی پشت پناہی حکمران خود کرتے ہوں وہاں دہشت گردی کو روکا نہیں جاسکتا ،دہشت گردوں کے مقابلے میں اسلحہ اٹھانے کے بجائے دہشت گردی کے اسباب پر غور کرنا چاہیے۔کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے سیکرٹری اطلاعات مولابخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے مقابلے میں اسلحہ

اٹھانے کے بجائے دہشت گردی کے اسباب پر غور کرنا چاہیے، اگر ردالنثار کیا جاتا تو رد الفساد کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے چوہدری نثار کے گرجنے برسنے کی پروا نہیں، وہ کچھ کرتے بھی نہیں اور اپنی کامیابیوں پر بھنگڑے ڈالتے پھرتے ہیں، چوہدری نثار سیہون میں آکر بھی لعل شہباز قلندر کے مزار پر نہیں گئے اور شہدا کے لواحقین کے لئے بھی کوئی اعلان نہیں کیا جو ان کی بزدلی اور ناکامی کو ظاہر ہوتا ہے۔رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ جس ملک میں حکمران دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہوں وہاں دہشت گردی کو کیسے روکا جاسکتا ہے وفاقی وزراء دہشت گردی کی ڈھکی چھپی جب کہ ایک صوبے کے وزراء اعلانیہ حمایت کرتے ہیں۔سیکرٹری اطلاعات پیپلز پارٹی نے کہا کہ میں صوبے کی نہیں پاکستان کی سیاست کرتا ہوں، مسلم لیگ(ن)سے نہیں بلکہ ان کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتا ہوں، وفاق کو چھوٹے صوبے اچھے نہیں لگتے اس لئے ان کی بات نہیں سنی جاتی، (ن)لیگ والے کچھ بھی کرتے پھریں انہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا لیکن ہم اگر آہ بھی کریں تو نوٹس لے لیا جاتا ہے۔مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کے قیام میں پولیس اور رینجرز سمیت سندھ حکومت کی بھی لازوال قربابیاں شامل ہیں لیکن ان کامیابیوں کو وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیاں ناکامیوں کی جانب دھکیل رہی ہیں، وفاق کو پالیسیاں ٹھیک کرنا ہوں گی، اگر حکومت کی پالیسیاں اور نیتیں ٹھیک ہوتیں تو فیصلے اور نتائج بھی بہتر ہوتے۔ مولابخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے مقابلے میں اسلحہ اٹھانے کے بجائے دہشت گردی کے اسباب پر غور کرنا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ مجھے چوہدری نثار کے گرجنے برسنے کی پروا نہیں، وہ کچھ کرتے بھی نہیں اور اپنی کامیابیوں پر بھنگڑے ڈالتے پھرتے ہیں، چوہدری نثار سہون میں آکر بھی لعل شہباز قلندر کے مزار پر نہیں گئے اور شہدا کے لواحقین کے

لئے بھی کوئی اعلان نہیں کیا جو ان کی بزدلی اور ناکامی کو ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں صوبے کی نہیں پاکستان کی سیاست کرتا ہوں، مسلم لیگ (ن) سے نہیں بلکہ ان کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتا ہوں، وفاق کو چھوٹے صوبے اچھے نہیں لگتے اس لئے ان کی بات نہیں سنی جاتی، (ن) لیگ والے کچھ بھی کرتے پھریں انہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا لیکن ہم اگر آہ بھی کریں تو نوٹس لے لیا جاتا ہے۔مولا بخش چانڈیو کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں امن و امان کے قیام میں پولیس اور رینجرز سمیت سندھ حکومت کی بھی لازوال قربابیاں شامل

ہیں لیکن ان کامیابیوں کو وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیاں ناکامیوں کی جانب دھکیل رہی ہیں، وفاق کو پالیسیاں ٹھیک کرنا ہوں گی، اگر حکومت کی پالیسیاں اور نیتیں ٹھیک ہوتیں تو فیصلے اور نتائج بھی بہتر ہوتے۔یادرہے کہ گزشتہ روزچوہدری نثار نے کہاتھا کہ سیہون شریف پر اس قدر انتظامی غفلت تھی کہ واک تھرو گیٹ نہیں تھے۔سکیورٹی نہیں تھی،بجلی نہیں تھی۔انہوں سندھ حکومت سے سوال کیا کہ کیا سیہون شریف کی سیکیورٹی وفاقی حکومت کی ذمہ داری تھی۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ہم نے چیف سیکریٹری سندھ سے رابطہ کیااور کچھ سوال اٹھائے تاہم چیف سیکریٹری کے پاس سکیورٹی سے متعلق کوئی جواب نہیں تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…