بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

datetime 15  جولائی  2026
سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ تر دنیا فتح کی‘ وہ یورپ‘ مڈل ایسٹ‘ انڈیا اور افریقہ کے ساحلی علاقوں کا مالک تھا‘ دنیا اس وقت بس اتنی ہی ہوتی تھی لیکن پھر اس کی سلطنت اس کی آنکھ بند ہوتے ہی ختم ہو ئی‘ کیوں اور کیسے؟ یہ سوال پچھلے اڑھائی ہزار سال سے مورخین کو پریشان کر رہا ہے‘ آپ اس کے بعد بنو امیہ‘ بنو عباس‘ چنگیز خان‘ امیر تیمور اور نادر شاہ افشار کی سلطنتیں دیکھ لیں‘ وہ بھی زمین کے کونوں کو چھوتی تھیں لیکن وہ بھی مٹی کا ڈھیر ثابت ہوئیں‘رومن ایمپائر تین براعظموں پر پھیلی تھی‘ سپینش بادشاہ چارلس پنجم(کارلوس اول) دنیا کا پہلا حکمران تھا جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا‘ انڈونیشیا سے لے کر امریکا تک اس کی حکومت تھی‘ سورج سفر طے کرتا ہوا کیوبا‘ ہنڈورس‘ ہیٹی اور ارجنٹائن پہنچتا تھاتو انڈونیشیا‘ ملائیشیا اور انڈیا کے ساحلوں پر طلوع ہو جاتا تھا لیکن پھر یہ سلطنت بھی ختم ہو گئی‘ عثمانی خلافت آج کے 43 ملکوں تک پھیلی لیکن 1920ء میں یہ ٹوٹ کر صرف ترکی تک رہ گئی‘ ملکہ برطانیہ کا اقتدار آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے نیویارک تک پھیلا ہوا تھا لیکن 1950ء تک پہنچتے پہنچتے یہ بھی ختم ہوگیا اور ہماری زندگی کا سب سے بڑا المیہ سوویت یونین تھا‘ آپ اس کی حدود کا تعین بھی نہیں کر سکتے‘ وہ قطب جنوبی سے قطب شمالی تک پھیلا ہوا تھا‘ برصغیر کی طرف افغانستان اس کی حد تھی لیکن پھر 1990ء میں اچانک یہ بھی ختم ہو گیا اور دنیا میں 15نئے ملک بن گئے‘ روس آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ سرحدیں رکھنے والا ملک ہے‘ اس کی سرحدیں 14 ملکوں سے ملتی ہیں‘ یہ ایک سائیڈ سے چین اور جاپان کا ہمسایہ ہے اور دوسری سائیڈ سے یورپ اور امریکا سے ملا ہوا ہے‘ اس میں11ٹائم زونز ہیں‘ روس میں آج بھی 9گھنٹے طویل ڈومیسٹک فلائیٹ اڑتی ہے‘ یہ ماسکو سے پیٹروپائولوسک جاتی ہے‘ آپ اس سے سابق سوویت یونین کے والیم کا اندازہ کر لیجیے‘ دنیا کے اسی فیصد وسائل بھی سوویت یونین کے پاس تھے‘ آج بھی پینے کے پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ روس میں ہے‘ پورا یورپ روسی پانی پیتا ہے اور ان کے چولہوں میں روسی گیس جلتی ہے لیکن وہ بھی ختم ہو گیا‘ کیسے اور کیوں؟ ہم اب وجوہات کی طرف آتے ہیں‘ یہ تمام ریاستیں معاشی بوجھ تلے دب کر ختم
ہوئیں‘ ان کے اخراجات زیادہ اور آمدنی کم تھی چناں چہ یہ ٹوٹ کر بکھر گئیں‘ سوال یہ ہے یہ معاشی بوجھ کیوں پیدا ہوا؟ ان کے فوجی اخراجات زیادہ تھے‘ یہ کیوں زیادہ تھے؟ یہ جنگیں زیادہ لڑتے تھے‘ انہوں نے دنیا بھر میں محاذ کھول رکھے تھے لہٰذا رومن ایمپائرز سے لے کر سوویت یونین تک تمام بڑی سلطنتیں جنگی اخراجات تلے دب گئیں‘ اب اگلا سوال یہ ہے اللہ تعالیٰ نے جب ان ریاستوں کو وسائل سے مالا مال کیا ہوا تھا‘ رومن ایمپائر کے پاس تمام ٹریڈ روٹس تھے‘ یہ سونے کے تمام بڑے ذخائر پر قابض تھی‘ سکندر اعظم (بعض مورخین کے بقول سائرس اول) آب حیات تک پہنچ گیا تھا‘ خلافت عثمانیہ‘ ملکہ برطانیہ اور سوویت یونین دنیا کے آدھے وسائل کے مالک تھے تو پھر ان کے خزانے کیوں خالی ہو گئے؟ اس کی تین وجوہات تھیں‘ معیشت کو امن چاہیے ہوتا ہے‘ یہ افراتفری اور جنگوں میں نہیں پنپتی‘ ملک میں جب ہر طرف جنگ‘ افراتفری اور مارکٹائی چل رہی ہو گی تو منڈیا‘ فیکٹریاں اور ورکشاپس کیسے کام کریں گی؟ ملک میں جب معاشی سرگرمیاں نہیں ہوں گی تو حکومت کو ٹیکس کم ملے گا‘ بے روزگاری بھی ہو گی اور مہنگائی میں بھی اضافہ ہو جائے گا چناں چہ حکومتی سسٹم بیٹھ جائے گا اور یوں خزانہ خالی ہو جائے گا جب کہ ریاست کو دوسری طرف جنگ کے لیے زیادہ پیسہ چاہیے اور یہ کہاں سے آئے گا؟ حکومت ظاہر ہے مجبوری میں مڈل کلاس اور اپر کلاس پر ٹیکس بڑھا دے گی‘ یہ لوگ اسے ایک حد تک برداشت کریں گے جب ان کی بس ہو جائے گی تو یہ کام بند کر دیں گے یا پھر ملک چھوڑ دیں گے‘ اس سے بے روزگاری مزید بڑھ جائے گی‘ حکومت آگے چل کر ضروریات زندگی پرٹیکس لگانا شروع کر دے گی‘ یہ تیل‘ گیس‘ بجلی‘ کھانے کے سامان‘ رہائش گاہوں‘ پانی حتیٰ کہ سانس پر بھی ٹیکس لگادے گی‘ اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جائے گا جس سے نبٹنے کے لیے لوگ چوری چکاری اور ڈاکہ زنی شروع کر دیں گے یا سرکاری اہلکار رشوت ستانی میں لگ جائیں گے اور اس کے نتیجے میں پورے ملک کا انتظامی سسٹم بیٹھ جائے گا‘ حکومت اسے چلانے کے لیے آئوٹ آف میرٹ تعیناتی کرے گی‘ یہ لٹھ بردار لوگوں یا ذاتی وفاداروں کو اہم عہدوں پر بٹھا دے گی‘ یہ لوگ بے ردری سے عوام کا مزید تیل نکال دیں گے اور یوں ملک کے اندر افراتفری‘ لڑائی اور احتجاج شروع ہو جائے گا‘ یہ صورت حال اس دشمن کے لیے آئیڈیل ہوگی جس کے ساتھ ریاست لڑ رہی ہے چناں چہ دشمن ملک احتجاجی جتھوں کو فنانس کرنا شروع کر دے گا جس کے بعد ریاست کے لیے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر محاذ کھل جائیں گے اور یوں ریاست ٹوٹ کر بکھرنے لگے گی‘ ماضی کی بڑی ریاستوں کے ساتھ بھی یہی ہوا‘ یہ زیادہ جنگیں چھیڑ بیٹھیں‘ ان کے لیے انہیں فوج بڑی کرنا پڑ گئی‘ فوج کے لیے زیادہ ہتھیاروں کی ضرورت پڑی‘ ہتھیاروں کے لیے رقم چاہیے تھی چناں چہ سڑکوں‘ پلوں‘ نئی شہری آبادیوں‘ مارکیٹوں‘ ہسپتالوں اور سکولوں کا بجٹ دفاع پر خرچ ہونے لگا‘ یہ رقم بھی جب ختم ہو گئی تو مزید رقم کے لیے ٹیکسوں میں اضافہ ہوا جس سے بے روزگاری اور مہنگائی بڑھی اور عوام نے لوٹ مار شروع کر دی یوں تاجر‘ صنعت کار اور ہنرمند ملک چھوڑنے لگے‘کاروبار دم توڑ گیا‘ ریاست کو آخر میں جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے ضروریات زندگی پر ٹیکس لگانا پڑ گیا اور یہ اندر اور باہر سے قرضے بھی مانگنے لگی اور اس کے نتیجے میں سوویت یونین سے لے کر رومن ایمپائر تک تمام چھوٹی بڑی ایمپائرز ختم ہو گئیں۔ آپ اب اس کے مقابلے میں چین اور آئس لینڈ دو ملکوں کا ماڈل دیکھیں‘ چین کی آبادی ایک ارب 41 کروڑ ہے جب کہ آئس لینڈ میں صرف چار لاکھ لوگ رہتے ہیں‘ یہ دونوں ملک پرامن اور روزانہ کی بنیاد پر ترقی کر رہے ہیں‘ چار لاکھ آبادی کے ملک آئس لینڈ میں میں ہر سال 50 لاکھ سیاح آتے ہیں‘ یہ دنیا کے ان چند ملکوں میں شمار ہوتا ہے جس میں فوج‘ نیوی اور ائیرفورس نہیں‘ ایک لاکھ تین ہزار مربع کلومیٹر کے پورے جزیرے پر صرف سات سو پولیس اہلکار ہیں اور یہ بھی ہفتے میں صرف پانچ دن کام کرتے ہیں‘ آئس لینڈ میں ہفتہ اور اتوار دو دن تھانے بھی بند رہتے ہیں‘ دوسری طرف چین دنیا کا امیر ترین ملک ہے‘ اس کا جی ڈی پی 20ٹریلین ڈالر ہے اور یہ سوئی سے لے سیٹلائیٹ تک دنیا کی ہر چیز بناتا ہے‘ یہ دنیا میں سب سے بڑی فوج کا مالک بھی ہے‘ اس کی بری فوج میں20 لاکھ 15 ہزار‘فضائیہ میںچار لاکھ اور نیوی میں 3لاکھ84 ہزار جوان اور افسر ہیں جب کہ یہ دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے سائبر آرمی بنا ئی اور اس کی تعداد بھی 15 لاکھ ہے‘ یہ دونوں ملک ایک دوسرے کی ضد ہیں مگر دونوں ترقی کر رہے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ دونوں نے پیدائش سے لے کر آج تک کوئی جنگ نہیں لڑی‘ چین کے کوریا‘ جاپان‘ روس‘برطانیہ‘ بھارت اور امریکا سے تنازعے چل رہے ہیں لیکن یہ تنازعے جھڑپوں سے آگے نہیں گئے‘ چین کی کوریا اور انڈیا سے جنگیں ہوئیں لیکن اس نے انہیں لمبا نہیں ہونے دیا‘ جون 2020ء میں بھارت سے اس کی خوف ناک سرحدی جھڑپ ہوئی‘ یہ اب جاپان سے بھی الجھ رہا ہے مگر اس نے ان کے باوجود دونوں ملکوں کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات خراب نہیں ہونے دیے‘ آج ایک سائیڈ پر اس کا جاپان سے پھڈا چل رہا ہے اور دوسری طرف دونوں ملکوں کے درمیان 310بلین ڈالر کی تجارت ہے‘ بھارت کے ساتھ بھی اس کا 75 سال پرانا سرحدی تنازع ہے لیکن 155بلین ڈالر کے تجارتی تعلقات بھی ہیں‘ امریکا اور چین دونوں ایک دوسرے کے بڑے حریف ہیں لیکن دونوں کے درمیان 574 بلین ڈالر کے تجارتی تعلقات بھی ہیں چناں چہ چین دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے‘ آپ کبھی چین جا کر دیکھیں اس کی ترقی آپ کی حیرت گم کر دے گی‘ آج اگر چین کسی ملک کے ساتھ لمبی لڑائی شروع کر دے تو کل اس کی معیشت کا جنازہ نکل جائے گا‘ آئس لینڈ بھی اگر سویڈن‘ ڈنمارک یا ناروے کے ساتھ لڑنا شروع کر دے تو کل سیاحت کی انڈسٹری بھی ختم ہو جائے گی اور اسے فوج بھی بنانی پڑے گی چناں چہ چین ہو یا آئس لینڈ دونوں کا کمال جنگ سے بچ جانا ہے اور یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ میں یہاں آپ کو ایران کی مثال بھی دیتا ہوں‘ دنیا میں تیل اور گیس کا دوسرا بڑا ذخیرہ ایران کے پاس ہے‘ اس نے عارضی پابندیوں کے خاتمے کے دوران صرف 26 دنوں میں چھ بلین ڈالر کا تیل بیچا اور یہ پاکستان کی کل سالانہ برآمدات کا 25فیصد ہے‘ گیس اور پیٹرو کیمیکل اس کے علاوہ ہیں‘ یہ اڑھائی ہزار سال پرانی سولائزیشن بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو تمام وسائل سے بھی نواز رکھا ہے‘ اس کے ساتھ دو سمندر لگتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ 47 سال سے معاشی بدحالی کا شکار ہے اور تاریخ کی بدترین جنگ اس کے دروازے پر کھڑی ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ 47سال سے مسلسل لڑ رہا ہے اور تاریخ بتاتی ہے دس سال کی جنگ رومن ایمپائر‘ گریک ایمپائر‘ منگول ایمپائر‘ تیموری سلطنت‘ سپین کی ریاست‘ خلافت عثمانی‘ ملکہ برطانیہ کا تخت اور سوویت یونین جیسی سلطنتوں کو نگل جاتی ہے اور ایرانی 47 سال سے دنیا سے کٹ کر بیٹھے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا خیال ہے یہ تاریخ بدل دیں گے‘ کیا یہ ممکن ہے؟۔ پاکستان کا المیہ ماضی کی سلطنتوں سے بھی بڑا ہے‘ ہمیں 80 سال ہو چکے ہیں اور ان اسی برسوں سے ہم نے سرحدوں کے باہر اور ملک کے اندرجنگیں نہیں رکنے دیں‘ ہم مسلسل لڑتے اور لاشیں اٹھاتے چلے جا رہے ہیں‘ ہم رک نہیں رہے۔ (جاری ہے)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…