بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

100 ملین ڈالر کے موبائل اسمگلنگ نیٹ ورک میں نامزد پاکستانی نژاد قطر سے گرفتار، امریکا کے حوالے

datetime 14  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکا میں موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹس اور دیگر قیمتی الیکٹرانک آلات کی مبینہ چوری، فراڈ، منی لانڈرنگ اور بیرونِ ملک اسمگلنگ سے متعلق بڑے مقدمے میں پاکستانی نژاد عبداللہ انور کو قطر سے امریکا منتقل کر دیا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق حوالگی کے بعد اسے ٹیکساس کی کولن کاؤنٹی جیل میں رکھا گیا ہے۔امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ عبداللہ انور پر چوری شدہ سامان کی بین الاقوامی ترسیل، میل اور وائر فراڈ کی سازش، منی لانڈرنگ اور دیگر مالی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات وفاقی گرینڈ جیوری کی جانب سے عائد کیے گئے تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ عبداللہ انور کو اس مقدمے میں پہلے امریکا میں ضمانت ملی تھی، تاہم وہ بعد ازاں ملک چھوڑ کر پاکستان چلا گیا۔ بعد میں قطر پہنچنے پر اسے گرفتار کیا گیا اور 10 جولائی 2026 کو امریکی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ایف بی آئی کے مطابق اس کارروائی میں امریکی محکمۂ انصاف کے آفس آف انٹرنیشنل افیئرز نے قطری حکام کے تعاون سے اہم کردار ادا کیا، جبکہ قطر کی وزارت داخلہ اور پبلک پراسیکیوشن کے تعاون کو بھی سراہا گیا۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق عبداللہ انور کو مختلف اوقات میں ٹیکساس کے گارلینڈ اور رولیٹ کا رہائشی ظاہر کیا گیا، تاہم اس فرق کی کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔مقامی ذرائع کے مطابق عبداللہ انور کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ کافی عرصے سے ڈیلس کے علاقے میں رہائش پذیر تھا۔

جاننے والوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اس کے طرزِ زندگی اور مالی حیثیت میں غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی، جبکہ وہ مہنگی گاڑیوں کے ساتھ بھی دکھائی دیتا تھا۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری دستاویزات یا تحقیقاتی اداروں نے آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق ملزم ایک ایسے مبینہ نیٹ ورک سے منسلک تھا جس کے باعث گزشتہ پانچ برسوں میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے نقصانات کا اندازہ لگایا گیا۔ تاہم امریکی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس تخمینے میں عبداللہ انور کا براہِ راست کردار کس حد تک شامل ہے۔یہ مقدمہ “آپریشن کیش آؤٹ” کے تحت زیرِ تفتیش ہے، جس میں متعدد وفاقی، ریاستی اور مقامی ادارے شریک ہیں۔ اس کیس میں ابتدائی طور پر 101 افراد کو نامزد کیا گیا تھا، جبکہ بعد میں ملزمان کی تعداد بڑھ کر 112 تک پہنچ گئی۔استغاثہ کے مطابق مبینہ نیٹ ورک مختلف مراحل پر کام کرتا تھا، جن میں الیکٹرانک ڈیوائسز چوری یا فراڈ کے ذریعے حاصل کرنا، انہیں خریدنا، بیرونِ ملک منتقل کرنا اور منی لانڈرنگ کے ذریعے رقوم کو قانونی شکل دینا شامل تھا۔تحقیقاتی اداروں کے مطابق اس نیٹ ورک سے تقریباً 70 ہزار سے زائد موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹس اور اسمارٹ واچز، جن کی مالیت تقریباً 100 ملین ڈالر بتائی گئی، بیرونِ ملک فروخت کیے گئے۔ اس کے علاوہ شناختی فراڈ کے ذریعے بھی ہزاروں ڈیوائسز حاصل کیے جانے کا الزام ہے، جبکہ مجموعی مالی نقصان کا تخمینہ 42 ملین ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے۔

قانونی وضاحت:
امریکی قانون کے مطابق کسی بھی شخص پر فردِ جرم عائد ہونا اس کے جرم کے ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا۔ عدالت میں الزامات ثابت ہونے تک تمام ملزمان کو بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…