اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

دنیا کے امیر ترین ممالک کون سے ہیں؟ نئی عالمی رپورٹ سامنے آگئی

datetime 14  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سوئس مالیاتی ادارے یو بی ایس (UBS) نے اپنی گلوبل ویلتھ رپورٹ 2026 شائع کر دی ہے، جس میں دنیا کے خوشحال ترین ممالک کی درجہ بندی مختلف مالیاتی پیمانوں کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دولت ناپنے کے طریقہ کار میں فرق آنے سے ممالک کی عالمی پوزیشن بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر فی بالغ فرد اوسط دولت (Average Wealth) کو معیار بنایا جائے تو سوئٹزرلینڈ تقریباً 9 لاکھ 10 ہزار ڈالر فی بالغ فرد کے ساتھ سرفہرست ہے۔ امریکہ تقریباً 6 لاکھ 96 ہزار ڈالر کے ساتھ دوسرے جبکہ لکسمبرگ تقریباً 6 لاکھ 55 ہزار ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ ہانگ کانگ اور سنگاپور بھی نمایاں پوزیشن رکھنے والے ممالک میں شامل ہیں۔دوسری جانب رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اگر وسطی دولت (Median Wealth) کو بنیاد بنایا جائے، جو عام شہری کی معاشی حالت کی زیادہ بہتر عکاسی کرتی ہے، تو عالمی درجہ بندی نمایاں طور پر تبدیل ہو جاتی ہے۔اس پیمانے کے مطابق لکسمبرگ تقریباً 3 لاکھ 94 ہزار ڈالر فی بالغ فرد کے ساتھ پہلے نمبر پر آ جاتا ہے، جبکہ بیلجیم تقریباً 2 لاکھ 77 ہزار ڈالر کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کرتا ہے۔ اس فہرست میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ڈنمارک بھی نمایاں ممالک کے طور پر سامنے آئے ہیں۔معاشی ماہرین کے مطابق اوسط دولت کے اعداد و شمار پر انتہائی دولت مند افراد کے اثاثے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں،

جبکہ وسطی دولت معاشرے میں دولت کی حقیقی تقسیم اور عام شہری کی مالی حالت کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرتی ہے۔ اسی وجہ سے بیلجیم، ڈنمارک اور لکسمبرگ جیسے ممالک اس درجہ بندی میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔رپورٹ میں خلیجی ممالک کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ قطر اوسط دولت کے لحاظ سے تقریباً 1 لاکھ 89 ہزار ڈالر فی بالغ فرد کے ساتھ 27 ویں نمبر پر جبکہ متحدہ عرب امارات تقریباً 1 لاکھ 58 ہزار ڈالر کے ساتھ 29 ویں نمبر پر رہا۔تاہم جب وسطی دولت کو معیار بنایا گیا تو قطر تقریباً 95 ہزار ڈالر فی بالغ فرد کے ساتھ 24 ویں نمبر پر پہنچ گیا، جبکہ متحدہ عرب امارات اس پیمانے پر ٹاپ 30 ممالک کی فہرست میں اپنی جگہ برقرار نہ رکھ سکا۔رپورٹ کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا اندازہ صرف مجموعی دولت یا ارب پتی افراد کی تعداد سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ دولت معاشرے کے مختلف طبقات میں کس حد تک منصفانہ انداز میں تقسیم ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…