جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

مرنے سے قبل یہ تین کام کرو ، آپ کی موت آسان ہوجائے گی

datetime 10  مارچ‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امام علی ؓ کی خدمت میں ایک شخص آکر عرض کرنے لگا یا علی ؓ وہ کونسا عمل ہے جس عمل سے موت کے وقت فرشتہ موت انسان کی تعظیم کرتے ہیں اور اس کی روح سکون سے قبض کرتے ہیں بس جیسے ہی یہ پوچھا گیا تو امام علی ؓ نےفرمایا اے شخص وہ تین عمل ہیں جو انسان یہ تین کام کرتا ہے تو فرشتہ موت اس کی تعظیم کرتے ہیں پہلا عمل کہ وہ انسان

زندگی میں اپنے ماں باپ کی خدمت کرتا ہو ان کا احترام کرتا ہو دوسرا عمل کہ وہ انسان اپنی زندگی میں اللہ کی مخلوقات کو تکلیف نہ دیتا ہو اپنی زبان اور ہاتھوں سے اللہ کی مخلوق کا خیال رکھتا ہو اور تیسرا عمل کہ وہ انسان زندگی میں ہم محمد وآل محمد سے مودت کرتا ہو یاد رکھنا جو انسان زندگی میں یہ تین کام کرتاہے تو مرتے وقت اس کی موت آسان ہوتی ہے اور فرشتہ موت اس کی تعظیم کرنے لگتا ہے اور یوں وہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملتا ہے ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک الموت علیہ السلام سے فرمایا: کیا میری امت کو موت کی تکلیف برداشت کرنی پڑے گی؟ تو فرشتے نے کہا جی ہاں کرنی پڑے گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ مبارک سے آنسو جاری ہو گئے. تو اللہ تعالی نے فرمایا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپکی امت اگر ہر نماز کے بعد آیت الکر سی پڑھے گی تو موت کے وقت اسکا ایک پاٶں دنیا میں ہو گا اور دوسرا جنت میں سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ

روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے تو اس کو جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا کوئی چیز نہیں روک سکتی۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکرات الموت میں مبتلا تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں پانی تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیالہ میں اپنا ہاتھ ڈبوتے پھر اپنے چہرہ مبارک پر پھیرتے اور یہ فرماتے تھے۔ دعا (اللہم اعنی علی منکرات الموت او سکرات الموت)۔

اے اللہ موت کی سخت دور کرنے کے ساتھ میری مدد فرما۔ موت کی سختی کے بجائے موت کی شدت فرماتے۔ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت کی سختی کو دیکھا ہے کسی کے لئے موت کی آسانی کی

دعا نہیں کرتی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی بیماری کی حالت میں گیا (بیمار پرسی کے لیے) ۔ آپ کو شدید بخار تھا۔ میں نے عرض کیا: بے شک آپ تو شدید بخار میں مبتلا ہیں۔ اورمیں نے کہا اگر ایسی حالت ہے

تو پھر آپ کے لیے اجر بھی دوہرا ہوگا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں جس مسلمان کو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں ایسے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ جھاڑتا ہے۔اللہ پاک ہم سب پر اپنی رحمتیں نازل کرے ، امین

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…