پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

’’میں نے خواب میں اپنے ایک مردہ کزن کو دیکھا جو عذاب میں تھا‘‘

datetime 7  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے ایک بیان میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حجاج بن یوسف کو حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ نے دیکھا کہ جہنم میں اس کی آنتیں پھٹی ہوئی ہیں، اس کا پیٹ پھٹ کر باہر آ گیااور وہ گدھے کی طرح گول دائرے میں چکر کاٹے جا رہا ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا حال ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ بس ایمان کی آس پر پڑا ہوں کہ کبھی تو اللہ جنت میں ڈال دے گا۔

مولانا طارق جمیل نے کہا کہ اگر ایمان پر خاتمہ ہو جاتا ہے اور اعمال کا ذخیرہ نہیں ہے تو اللہ کا قانون جہنم ہے۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ ایمان کے حوالے سے مجھے ایک بات یاد آ گئی کہ مردہ جو خواب میں بتائے وہ صحیح ہوتا ہے۔ میرا ایک تایا زاد بھائی جس نے ساری زندگی عیاشی میں گزار دی اور وہ جوانی میں مر گیا ۔ اسے میں نے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ کیا حال ہے تو اس نے جواب دیا کہ آگ کے تنور میں جل رہا ہوں۔ میرا خون تھا تو مجھ سےرہا نہ گیا۔ میرا کزن کبھی کبھار میرے کہنے پر نماز پڑھ لیا کرتا تھا۔ یا کبھی عید کی نماز پڑھ لی۔ میں نے جب خواب میں اس کی حالت دیکھی تو تڑپ اٹھا، اس کے ایصال ثواب کیلئے پڑھنا شروع کیا اور اس کی طرف سے ایک حج کا انتظام کیا۔ جب میں حج کے بعد واپس آیا تو پھر میرے ایک ساتھی کو خواب آیا کہ مولانا طارق جمیل صاحب کا تحفہ ہمیں مل گیا ہے۔ اب میں سکون سے ہوں۔ مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا سے چلے جانے والوں کیلئے بھی ایصال ثواب کی صور ت میں آسانی رکھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…