جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس کے بعد دنیا کو ’’ڈیزیز ایکس‘‘ نامی خوفناک بیماری جلد ہی اپنی لپیٹ میں لے لے گی ، یہ مرض کتنی تیزی کیساتھ پھیلے گا؟ پروفیسر جین جیکوس نے خبر دار کر دیا

datetime 4  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کو مہلک بیماری ڈیزیز ایکس اپنی لپیٹ میں لینے کو تیار ہے جو کورونا وائرس کی طرح دنیا بھر میں تیزی سے پھیل سکتی ہے اور یہ مرض افریقی وائرس جتنا مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایبولا کو دریافت کرنے والے پروفیسر جین جیکوس نے خبردار کیا ہے کہ یہ مہلک بیماری تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے

جو پوری دنیا کو جلد اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطباق پروفیسر جین جیکوس نے 1976 میں ایبولا وائرس کو دریافت کرنے میں مدد دی تھی اور اب انہوں نے ایک اور بیماری کے خدشے کا اظہار کیا ہے جو انسانوں کو دیکھتے ہی دیکھتے اپنی لپیٹ میں لے گا۔پروفیسر جین جیکوس نے کہا ہے کہ اب انسانوں کو ان گنت وائرسز کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کر لینا چاہیے۔ افریقہ کے برساتی جنگلات سے اب نیا وائرس جلد نکلے گا اور ہر طرف پھیل جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم اب ایسی دنیا میں آ چکے ہیں جہاں اب آئے روز نئے وائرس جنم لیں گے جو انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے۔ مستقبل میں آنے والی بیماریاں کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک اور بھیانک ثابت ہو سکتی ہیں۔کانگو میں ایک ایسے شخص کی شناخت کی گئی ہے جو کہ انتہائی مہلک اور حیران کن بیماری میں مبتلا ہے جس کی بیماری کی ابھی تک تشخیص ہی نہیں ہو رہی کہ اصل میں اس کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ”ڈیزیز ایکس“ دنیا میں پھیل گئی تو اس کی اموات کی شرح 70 فیصد سے زیادہ ہو گی۔ڈبلیو ایچ او کا مؤقف بھی یہی ہے کہ جب ڈیزیز ایکس ہمارے سوچنے سے قبل ہی دنیا میں پھیل جائے گی جس سے وسیع پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان ہو گا۔جب پہلی بار ایبولا وائرس کا معلوم ہوا تھا اس مریض کی تشخیص کرنے والا اسی فیصد عملہ موت کے منہ میں چلا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…