جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

معاشی ترقی کے باوجود بھارت ایک منتشر اور بے حال ملک ہے،پاکستان دشمنی بارے بھی باراک اوبامہ کے اپنی کتاب میں انکشافات

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

واشنگٹن(آ ن لائن ) سابق امریکی صدر باراک ا وبامہ نے اپنی کتاب میں بھارت میں مسلم مخالف انتہا پسندی اور پاکستان دْشمنی کے بارے میں چند اہم حقائق سے پردہ اْٹھایا گیا ہے۔ باراک اوبامہ کی حالیہ شائع ہونیوالی نئی کتاب Promised Land A کے صفحہ نمبر600اور601 میں انہوں نے نومبر2020میں بھارت کے دورے کے دوران سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سِنگھ

سے ملاقات کا حوالہ اور اپنی ذاتی رائے دیتے ہوئے لِکھا کہ ”بڑھتے ہوئے مسلم مخالف جذبات نے ہندو قوم پرست بی جے پی کے اثر کو مظبوط کیا ”(یاد رہے کہ اس وقت حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت بے جے پی تھی)۔ سابق بھارتی وزیراعظم کے اپنے بیان کے مطابق ”بھارت میں کسی غیر یقینی صورتحال میں مذہبی اور نسلی یکجہتی کے غلط استعمال سے فائدہ اْٹھانا بھارتی سیاستدانوں کیلئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ”۔ اْنھوں نے یہ بھی لکھا کہ جنونیت اور انتہا پسندی بھارتی معاشرے میں سرکاری اور نجی سطح پر بہت گہرائی تک سرائیت کر چکی ہے اور پاکستان دْشمنی بھارت میں قومی یکجہتی اْجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ بہت سے بھارتی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ بھارت نے پاکستانی جوہری طاقت کا مقابلہ کرنے کیلئے ایٹمی ہتھیار تیار کیے۔ ان کو اس بات کا قطعاََ ادراک نہیں کہ کسی بھی طرف سے ذرا سی غلطی پورے خطے کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ آج مجموعی طور پر بھارتی معاشرہ نسل اورقوم پرستی کے گرد مرکوزہے۔ معاشی ترقی کے باوجود، بھارت ایک منتشر اور بے حال ملک ہے، جو بْنیادی طور پر مذہب اور قوم میں بٹا ہوا ہے اور بد عنوان سیاسی عہدے داروں، تنگ نظر سرکاری افسروں اور سیاسی شعبدہ بازوں کی گرفت میں ہے۔ انتہا پسندی، جنونیت، بھوک، بدعنوانی، قومیت، نسلیت اور مذہبی عدم رواداری اس حد تک مضبوط ہو چکے ہیں کہ کوئی بھی جمہوری نظام اس

کو مستقل طور پر جکڑ نہیں سکتا۔ یہ تمام مسائل اگر وقتی طور پر قابو میں بھی ہو جائیں تو معاشی ترقی کی روکاوٹ یا آبادیاتی تبدیلی یا کسی طاقتور سیاسی رہنما کے ہوا دینے پر لوگ دوبارہ انتہا پسندی اور سر کشی کی نظر ہو جاتے ہیں۔ اْبامہ نے اپنی کتاب میں من موہن سنگھ کے وزیراعظم کے عہدہ تک پہنچنے کی تعریف بھی کی کیونکہ بھارت میں سِکھ اقلیت کو اکثر نشانہ بنایا جا تا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…