جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کی مشکلات حل نہ کرنے اور ناقص کارکردگی پرکم جونگ ان روپڑے،ملک کی بہتر رہنمائی نہ کرپانے میں ناکامی پر معافی مانگ لی، پاکستانی سیاستدانوں کیلئے بہترین مثال

datetime 13  اکتوبر‬‮  2020 |

پیانگ یانگ(این این آئی )شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ ان ورکرز پارٹی کی سالگرہ کے موقع پر فوجی پریڈ سے خطاب کے دوران عوام کی مشکلات حل کرنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حکمراں جماعت ورکرز پارٹی کے یوتاسیس کی مناسبت سے ملک بھر میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے ایک

تقریب میں فوجی پریڈ کے دوران کم جونگ ان عوام کا معیار زندگی بہتر نہ کرپانے کا اعتراف کرتے ہوئے رو پڑے۔شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے کہا کہ عوام کا مجھ پر آسمان کی طرح بلند اور سمندر جتنا گہرا اعتماد ہے لیکن میں انہیں اطمینان بخش زندگی گزارنے کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو گیا ہوں۔ اس موقع پر ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور انہیں چشمہ اتار کر آنسو پونچھنے پڑے۔کم جونگ ان نے کورونا وبا کے ہنگامہ خیز دور میں ملک کی بہتر رہنمائی نہ کرپانے میں ناکامی پر بھی معافی مانگی۔ اپنے طاقتور حکمراں کو روتا دیکھ کر شمالی کوریا کے فوجی بھی آبدیدہ ہوگئے اور اپنے ملک و حکمراں کی حق میں فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے اپنی حمایت کا یقین دلایا۔کم جونگ ان نے اپنے دادا اور والد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مجھے ملک کی ذمہ داری سونپی گئی لیکن میری تمام کوششیں اور اخلاص عوام کو مشکلات سے نجات دلانے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئیں۔شمالی کوریا کو اس وقت شدید عالمی دباو کا سامنا ہے، امریکی صدر کے ساتھ مذاکرات مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے اور حریف جنوبی کوریا کی جانب ہم آہنگی کے لیے بڑھائے ہاتھ بھی خالی لوٹے ہیں جب کہ رہی سہی کسر کورونا وبا نے پوری کردی ہے، اسی لیے طاقتور حکمراں کی تقریر میں باربار سنگین چیلنجز ان گنت جدوجہد اور ہولناک آفات کا تذکرہ رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…