جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی فضائی حدود کیوں استعمال کی؟ امریکہ نے ایمریٹس ائیر پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا

datetime 4  اکتوبر‬‮  2020 |

واشنگٹن، دبئی ( آن لائن )امریکا نے متحدہ عرب امارات کی سرکاری ائیر لائن ایمریٹس ائیر پر 4 لاکھ ڈالرز کا بھاری جرمانہ عائد کر دیاامریکا کے محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے شدید سیاسی اختلافات کے دوران ایرانی فضائی حدود استعمال کرنے پر ایمریٹس ائیر لائن پر جرمانہ عائد کیا گیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اگر ائیر لائن ایک سال کے اندر دوبارہ ایسی غلطی نہیں کرتی تو

اس کا آدھا جرمانہ معاف ہو جائے گا۔امریکا کی ایوی ایشن انتظامیہ نے فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی ایران کی جانب سرویلنس ڈرون مار گرائے جانے کے باعث عائد کی تھی اور امریکا کی فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا کے مسافر بردار جہاز کو بھی ملٹری طیارہ قرار دینے کا خطرہ موجود ہے۔محکمہ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ ایمریٹس ائیر لائن کی نیو یارک جانے والی پرواز نے جیٹ ائیرویز کی پرواز کا کوڈ استعمال کیا، حالانکہ جیٹ بلیو کی پرواز صرف اسی صورت میں یہ کوڈ استعمال کر سکتی ہے اگر طیارہ جیٹ بلیو کا ہی ہو۔دوسری جانب ایمریٹس ائیر لائن کی انتظامیہ کا کہنا ہے وہ نہیں سمجھتے کہ ان کی پرواز سے کوئی خلاف ورزی سرزد ہوئی لیکن معاملے کے حل کے لیے ان کی کمپنی جرمانہ ادا کرنے پر رضامند ہے۔ایمریٹس انتظامیہ کا کہنا کہ امریکا کی فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی کی جانب سے فضائی حدود کے استعمال پر پابندی کے بعد ما سوائے تہران کے دو پروازوں کے تمام پروازیں بند کر دی گئی تھیں۔ایمریٹس انتظامیہ کا موقف ہے کہ جب امریکا سے دوبارہ پروازیں چلانا شروع کیں تو ایرانی فضائی حدود میں غلطی سے جیٹ بلیو کا کوڈ استعمال ہو گیا۔ائیر لائن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس مسئلے کو حل کیا تاکہ مستقبل میں دوبارہ ایسی غلطی نہ ہو۔دوسری جانب امریکا کے محکمہ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ وہ ایمریٹس ائیر لائن کی

غلطی کو بہت سنجیدگی سے دیکھتے ہیں اور ائیر لائن پر سخت جرمانہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مستقبل میں ایمریٹس یا دیگر ائیرلائنز ایسی کوئی غیر قانونی حرکت نہ کریں۔متنازع علاقوں میں فضائی حدود کے استعمال کا رسک 2014 میں اس وقت منظر عام پر آیا جب ملائیشیا کے ایک مسافر بردار طیارے کو یوکرین میں روسی نواز باغیوں نے مار گرایا جس کے نتیجے میں تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…