کشمیر کی حیثیت میں کوئی بھی تبدیلی غیر قانونی ہے، چین نے مسئلے کا آسان حل بتا دیا

  جمعہ‬‮ 7 اگست‬‮ 2020  |  0:05

بیجنگ(این این آئی) چین نے کہا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اس تنازع میں کوئی بھی یک طرفہ اقدام یا کشمیر کے تشخص میں تبدیلی غیرقانونی ہے۔کشمیر پر پوزیشن مستقل اور واضح ہے، مسئلہ کشمیر ایک تاریخی تصفیہ طلب مسئلہ ہے جس کا حل اقوام متحدہ چارٹر، سلامتی کونسل قراردادوں، پاک بھارت دوطرفہ معاہدات میں ہے۔ پاکستان اور بھارت ہمسائے ہیں،ایک دوسرے سے دور نہیں جا سکتے، پرامن بقائے باہمی ہی بنیادی دوطرفہ مفاد اور عالمی برادری کی مشترکہ اساس ہے، امید ہے دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے باہمی اختلافات ختم کرکے،


بہتر تعلقات اور علاقائی ترقی کے لیے کام کریں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک پریس بریفنگ کے دوران صحافی کے کشمیر سے متعلق سوال کے جواب میں چینی دفتر خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے کہا کہ کشمیر پر پوزیشن مستقل اور واضح ہے، مسئلہ کشمیر ایک تاریخی تصفیہ طلب مسئلہ ہے جس کا مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ چارٹر، سلامتی کونسل قراردادوں، پاک بھارت دوطرفہ معاہدات میں ہے۔ترجمان نے کہا کہ تنازعہ کشمیر پر کوئی بھی یک طرفہ اقدام یا تشخص میں تبدیلی غیر قانونی ہے، مسئلہ کشمیر کو تمام فریقین کے مابین پرامن انداز سے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت ہمسائے ہیں، ایک دوسرے سے دور نہیں جا سکتے، پرامن بقائے باہمی ہی بنیادی دوطرفہ مفاد اور عالمی برادری کی مشترکہ اساس ہے، امید ہے دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے باہمی اختلافات ختم کرکے، بہتر تعلقات اور علاقائی ترقی کے لیے کام کریں گے۔  چین نے کہا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اس تنازع میں کوئی بھی یک طرفہ اقدام یا کشمیر کے تشخص میں تبدیلی غیرقانونی ہے۔کشمیر پر پوزیشن مستقل اور واضح ہے


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎