اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس چمگادڑ سے پھیلا،سائنسدانوں نے ہانگ کانگ یونیورسٹی کی تحقیق کے نتائج دنیا کے سامنے رکھ دئیے

datetime 14  مئی‬‮  2020 |

ہانگ کانگ سٹی(این این آئی)نئے نوول کورونا وائرس کی وبا کے آغاز سے ہی سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ بیماری کس جاندار سے انسانوں میں آئی اور اب لگتا ہے کہ ہانگ کانگ کے سائنسدانوں نے اس کا جواب تلاش کرلیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہانگ کانگ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ کورونا وائرس ممکنہ طور پر ایشیا میں پائے جانے والی چمگادڑوں کی ایک قسم سے پھیلا۔

یونیورسٹی کے مائیکرو بائیولوجی ڈیپارٹمنٹ میں خلیات کے ایک ایسے گروپ کو تیار کیا گیا جو چینی ہارس شو نامی چمگادڑ کی آنتوں میں پائے جانے والے خلیات سے مماثلت رکھتا تھا۔چمگادڑوں کی یہ قسم چین، نیپال، ویت نام اور بھارت سمیت متعدد ممالک میں پائی جاتی ہے۔محقین ان خلیات کی ساخت کو نئے نوول کورونا وائرس یعنی سارس کوو 2 سے متاثر کرنے میں کامیاب رہے۔اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ چمگادڑوں کی یہ قسم اس وائرس کو بھی لے کر پھرتی ہے جو سارس کا باعث بنتا تھا اور نئے نوول کورونا وائرس سے ملتا جلتا ہے۔محققین نے بتایا کہ نتائج کو اکٹھے ملا کر دیکھا جائے تو اس کا مطلب نکلتا ہے کہ چینی ہارس شو چمگادڑ ہی ممکنہ طور پر سارس کوو 2 کی اصل میزبان ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے اصل چمگادڑوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ وائرس کی بنیاد کی تصدیق کی جاسکے۔اس تحقیق کے دوران چمگادڑ کے آنتوں کی ساخت کو لیبارٹری میں بنانے میں بھی کامیابی حاصل کی۔اس تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ نیا کورونا وائرس مریضوں کے پھیپھڑوں کے ساتھ ساتھ آنتوں کو بھی نشانہ بناتا ہے۔اس مقصد کے لیے محققین نے ہانگ کانگ کے ایک ہسپتال میں زیرعلاج 68 سالہ مریضہ کے فضلے کا تجزیہ کیا جس کو بخار، گلے میں سوجن، کھانسی اور ہیضے کی شکایات تھیں۔اس مریضہ میں نہ صرف کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی بلکہ سائنسدانوں نے فضلے سے وائرس کو بھی الگ کرلیا جس سے عندیہ ملتا ہے کہ آنتوں میں بھی انفیکشن ہوا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…