جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ایرانی پولیس وحشی ہوگئی 56 افغان پناہ گزینوں کو زندہ دریا میں پھینک دیا،23ہلاک،زندہ بچ جانیوالے افغان شہری کے دل دہلا دینے والے انکشافات

datetime 3  مئی‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل (این این آئی)افغانستان میں سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے شہریوں نے سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج پوسٹ کی ہے جس میں 23 افغان پناہ گزینوں کی لاشیں دکھائی گئی ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ لاشیں ان 56 مقتول پناہ گزینوں میں شامل لوگوں کی ہیں جنہیں چند روز قبل ایرانی بارڈر پولیس نے غیرقانونی طورپرملک میں داخل ہونے کے بعد قتل کردیا تھا اور ان کی لاشیں افغانستان کی طرف بہنے والے دریا ھریرودمیں بہا دی تھیں۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی 23 پناہ گزینوں کی لاشوں والی تصویر ان 56 افغان مہاجرین میں شامل لوگوں کی ہے جنہیں ایرانی پولیس نے گرفتار کرنے کے بعد غیرانسانی تشدد کا نشانہ بنایااور انہیں جبرا دریا میں کودنے پرمجبور کیا گیا تھا۔ایرانی بارڈر پولیس نے پہلے تو افغان مہاجرین پر فائرنگ کی اور انہیں بارڈر پر روک لیا گیا۔ اس کے بعد انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے شدید زخمی حالت میں دریا میں پھینک دیا تھا۔بچ جانے والے ایک پناہ گزین شرآقا طاھری نے بتایا کہ یہ پناہ گزین دو روز قبل کام کاج کے لیے ایران جانے کی کوشش کررہے تھے مگر انہیں سرحد پرروکا گیا اور اس کے بعد انہیں مارپیٹ کی گئی اور جبرا دریا برد کردیا گیا۔یہ افغان شہری ایران اور افغانستان کے درمیان ذوالفقار کراسنگ پوائنٹ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ ان میں سے بیشترکا تعلق ایران کے ھرات اور فاریاب صوبوں سے ہے۔ادھر صوبہ ھرات کے اسپتال کے ایک عہدیدار عارف جلالی نے بتایا کہ اسپتال میں دریا سے نکالی گئی پانچ افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں۔ھرات صوبے کے ترجمان جیلانی فرھاد نے کہا کہ پناہ گزینوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کرنے اوران کی لاشیں دریا میں پھینکنے کے واقعے کی اعلی سطح پر تحقیقات کی جائیں گی۔دریں اثنا ھرات میں ایرانی قونصل خانے کی طرف سے افغان پناہ گزینوں کو سرحد پر ایرانی پولیس کے ہاتھوں قتل کرکے ان کی لاشیں دریا میں پھینکنے کے واقعے کی سختی سے تردید کی ہے۔قونصل خانے کا کہنا تھا کہ افغان وزارت خارجہ مشہد میں قائم افغان قونبصل خانے کے تعاون سے اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔ جلد ہی اس کے نتائج کابل حکومت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…