جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

یہ لوگ “انسانی بم” ہیں جو “کرونا جہاد” کر رہے، بھارت میں تبلیغی جماعت کوکرونا وائرس کے پھیلاو کا ذمے دار قرار دے کر مسلمانوں کا جینا مشکل کر دیا گیا چن چن کر تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا ، انتہا پسند وں کاگولی مارنے کا مطالبہ

datetime 13  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ گرائے جانے لگے ۔تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس نے جہاں دنیا میں تباہی پھیلا رہا وہیں بھارت میں بھی مہلک وائر س کی شدید زد میں ہے ، کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 9ہزار سے زائد جبکہ ہلاکتیں 3سو تیس ہو گئیں ہیں ۔ ان تمام صورتحال کو مسلمانوں کی جانب

منسوب کیا جارہا ہےاور الزام لگایا جارہا ہے کہ بھارت میں کرونا وائرس تبلیغی جماعت والوں کی وجہ سے پھیلا ۔ اسے بنیاد بنا کر مسلمانوں کیخلاف انتہائی نفرت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے کہا جارہا ہے کہ یہ تو انسانی بم ہیں اور کرونا جہاد کر رہے ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ کوئی مسلمان غریبوں کی مدد بھی کرے تو منع کر دیا جاتا ہے کہ ان سے کوئی سامان لے ورنہ کرونا وائرس ہو جائے گا ۔ بھارت میں مسلمانوں کو چن چن کر تشدد کیا جارہاہے ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کا بھارت میں حال یہ ہے کہ وہ اپنے گھروں مساجد تک میں محفوظ نہیں ہیں ، انہیں پر وہاں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ یہاں تک کے بھارتی پنجاب کے ایک گائوں میں یہ اعلان بھی کیا گیا کہ مسلمانوں سے کوئی دودھ نہ خریدے ورنہ ان میں کرونا وائرس پھیلا ہوا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…