جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

مصر میں ایک فن کار نے آبائی قبرستان کرونا مہلوکین کے لیے کھول دیا

datetime 12  اپریل‬‮  2020 |

قاہرہ (این این آئی)مصرمیں جہاں کچھ لوگوں نے کرونا سے ہلاک ہونے والے مریضوں کی تدفین کی مخالفت میں احتجاج کیا ہے وہاں ایک مشہور فلمی شخصیت اور فن کار عمر سعد نے اپنا آبائی قبرستان کرونا کے مہلوکین اور طبی عملے کے فوت ہونے والے ارکان کی تدفین کے لیے کھول دیا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق فن کار عمرسعد کی طرف سے کرونا کے مہلوکین کے لیے آبائی قبرستان کھولنے کی اجازت ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب دوسری طرف گذشتہ روز مصر کی الدقھلیہ گورنری میں ایک خاتون ڈاکٹر کی کرونا وائرس سے موت کے بعد اسے مقامی قبرستان میں دفن کرانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس نے تدفین کی مخالفت اور مظاہرہ کرنے والے متعدد افراد کو حراست میں لیا ہے جب کہ فوت ہونے والی خاتون ڈاکٹر کو محفوظ طریقے سے دفن کر دیا گیا ہے۔عمر سعد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیومیں کہا  کہ میں الدقھلیہ گورنری میں پیش آنے والے واقع پر تبصرہ کرنا پسند نہیں کرتا۔ میں درجہ اول کا ایک فن کار ہوں اور میری اپنی محدود ذمہ داریاں ہیں۔عمر سعد نے وضاحت کی کہ جو شخص کسی کے میت کو دفن کرنیکی مخالفت کرتا ہے اس میں انسانیت کی کمی ہوسکتی ہے۔ میت کی تکریم ہم سب کی تربیت کا حصہ ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…