جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

مجھے انسانی ڈھال بناتے وقت کسی بھارتی فوجی کو مجھ پر ترس نہیں آیا،اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ مرتے دم تک نہیں بھول سکتا،انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 11  اپریل‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سرینگر (این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی طرف سے تین برس قبل جیپ کے بونٹ پر باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیے جانے والے ضلع بڈگام کے رہائشی نوجوان فاروق احمد ڈار نے کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھ پیش آنے والا مرتے دم تک نہیں بھول سکتاکیونکہ بھارتی فوج نے اسے کئی گھنٹوں تک وحشیانہ طریقے سے نسانی ڈھال بنا کر اسکے ساتھ سنگین زیادتی کی ۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فاروق احمد نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتا یا کہ اس نے اب انصاف کے حصول کیلئے جدوجہد ترک کر دی ہے کیونکہ اسے ڈر ہے کہ اگر اسے جیل بھیجاگیا تو اسکی بورھی مال کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حالات ٹھیک نہیں ہیں اور اسے اس دنیا میں انصاف ملنے کی امید نہیں ہے کیونکہ کشمیر کے جس ہیومن رائٹس کمیشن میں اسکا کیس چل رہا تھا وہ کمیشن ہی گزشتہ برس پانچ اگست کوکشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بھارتی اقدام کے باعث ختم ہو چکا ہے۔ فاروق احمدڈار نے کہا کہ کشمیر میں ایسا راج ہے جس میں انصاف ملنا ناممکن ہے۔ فاروق احمد ڈار نے کہا کہ اسے سب بھارتی فوجی ایک جیسے نظر آتے ہیں کیونکہ جب اسے انسانی ڈھال بنایا گیا تو کسی فوجی نے اس پر ترس نہیں کھایا، اسے18 فوجیوںنے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور اسے ماراپیٹا۔ فاروق ڈار نے کہ جب اس نے انصاف کیلئے جدوجہد شروع کی تو 2019میں بھارتی فوجیوں نے اسے پھر دو تین مرتبہ مارا پیٹا جبکہ ایک بار اسکے گھر کا دروازہ توڑ کر اندر گھسنے کی بھی کوشش کی۔یاد رہے کہ ضلع بڈگام کے علاقے آری زال بیروہ کے رہائشی نوجوان فاروق احمد ڈار کو بھارتی فوجی کے میجر گوگوئی نے 9اپریل2017کوکشمیری نوجوانوں کے پتھرائو سے بچنے کیلئے اپنی جیپ کے بونٹ سے باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کئی گھنٹوں تک خستہ حال سڑکوں پر گھمایا تھا۔ یہ بھارتی پارلیمنٹ کے سرینگر پارلیمانی نشست پر نام نہاد پولنگ کا دن تھا اور کشمیری نوجوان نام نہاد انتخابات کے خلاف جگہ جگہ احتجاج کر رہے تھے۔ بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے اس روز کئی کشمیری نوجوان شہید ہو گئے تھے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…