جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کابل میں سکھوں کی عبادت گاہ پر حملہ کرنے والا دہشتگرد بھارتی نکلا ،نام اور کس جگہ کا رہائشی ہے؟پتہ چل گیا

datetime 28  مارچ‬‮  2020 |

کابل(این این آئی ) شدت پسند عسکری تنظیم داعش نے افغانستان میں سکھوں کے گردوارے پر خودکش حملہ کرنے والے کی تصویر جاری کردی جو بھارتی شہری ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ابو خالد الہندی نامی خودکش بمبار اصل میں محمد ساجد ہے جو کیرالہ کا رہائشی ہے تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

افغانستان کے قدیم ترین گردوارے پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔خیال رہے کہ 25 مارچ کو افغانستان میں دہشت گردوں نے سکھوں کی دھرم شالا پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں25 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے تھے۔حملہ کابل کے شوربازار علاقے میں کیا گیا اور جوابی کارروائی میں4 حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔ حملہ اس وقت ہوا جب لوگوں کی کثیر تعداد دھرم شالا میں عبادت کیلئے جمع تھی۔ حملے کے وقت کم سے کم 150 لوگ دھرم شالا میں موجود تھے۔افغانستان میں300 کے لگ بھگ سکھ خاندان رہائش پذیر ہیں اور ماضی میں بھی انہیں دہشتگردی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ سن 2018 میں افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں سکھ برادری کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…