جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے چین کے امیر ترین شخص کا پاکستان کو تحفہ

datetime 21  مارچ‬‮  2020 |

بیجنگ(این این آئی)ایشیا اور چین کے امیر ترین شخص جیک ما نے پاکستان سمیت متعدد ایشیائی ممالک کو لاکھوں فیس ماسکس اور کورونا وائرس ٹیسٹ کٹس دینے کا اعلان کیا ہے۔یہ جیک ما کی فلاحی خدمات کے لیے قائم ادارے کی جانب سے اس عالمی وبا کی روک تھام کے حوالے سے کوششوں کا حصہ ہے، جو اس سے قبل یورپ اور امریکا میں بھی فیس ماسکس اور کٹس فراہم کرچکا ہے۔

ای کامرس کمپنی علی بابا کے بانی جیک ما نے رواں ہفتے ٹوئٹر اکائونٹ بناتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ جیک ما فائونڈیشن اور علی بابا فائونڈیشن کی جانب سے امریکا، ایران اور اٹلی سمیت یورپ کے کچھ ممالک کو فیس ماسکس اور ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی جائیں گی۔اپنے نئے ٹوئٹ میں جیک ما نے کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیشن، افغانستان، کمبوڈیا، لائوس، مالدیپ، منگولیا، میانمار، نیپال اور سری لنکا کو وائرس کی روک تھام کیلئے حفاظتی ملبوسات، وینٹی لیٹرز اور تھرما میٹرز سمیت فیس ماسکس اور ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی جائیں گی۔خیال رہے کہ دنیا بھر میں طبی اور حفاظتی آلات کی قلت کا سامنا ترقی پذیر کے ساتھ ترقی یافتہ ممالک کو بھی ہوا ہے،مجموعی طور پر جیک ما کی جانب سے ایشیائی ممالک کو 18 لاکھ فیس ماسکس، 2 لاکھ سے زائد ٹیسٹنگ کٹس، 36 ہزار حفاظتی ملبوسات فراہم کیے جائیں گے۔جیک ما نے لکھا کہ کہ تیزرفتاری سے ان اشیا کی فراہمی آسان نہیں مگر ہم ایسا کریں گے۔16 مارچ کو جیک ما کی جانب س 54 افریقی ممالک کو فی ملک 20 ہزار ٹیسٹنگ کٹس، ایک لاکھ ماسکس اور ایک ہزار حفاظتی ملبوسات اور فیس شیلڈز فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔13 مارچ کو ٹوئٹر جوائن کرنے کے بعد اپنے بیان میں جیک ما نے کہا تھاکہ اپنے ملک کے تجربے کے پیش نظر میں کہا سکتا ہوں کہ برق رفتار اور درست ٹیسٹنگ، طبی عملے کے تحفظ کیلئے آلات اس وائرس کی روک تھام کے لیے سب سے موثر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ ان سپلائیز سے امریکا میں کچھ لوگوں کو مدد مل سکے گی،یہ بڑی وبا انسانیت کے لیے ایک چیلنج ہے، یہ ایسا چیلنج نہیں جو سے کوئی ملک اکیلا نمٹ سکے بلکہ ہر ایک کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اس وقت ہمیں اپنے وسائل بغیر کسی قیاس کے شیئر کرنے چاہیے اور وبا کی روک تھام کے تجربے اور اسباق کا تبادلہ کرنا چاہیے تاکہ اس سانحے کو شکست دینے کا موقع مل سکے۔انہوں نے بیان ان الفاظ پر ختم کیا ،متحد ہوکر ہم کھڑے رہ سکتے ہیں، تقسیم ہوئے تو گرجائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…