جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس کا خطرہ،آسٹریلیا میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ بند

datetime 21  مارچ‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی)آسٹریلیا میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے، تاکہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ فلائٹس منسوخ ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی سیاحوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا ایک قلعے کی صورت اختیار کر رہا ہے اور اب غیر ملکیوں کو آسٹریلیا میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس سے پہلے چین،

ایران، جنوبی کوریا اور اٹلی سے آنے والے مسافروں کا داخلہ بند کیا گیا تھا۔آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم سکاٹ ماریسن نے کہاکہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے سرحد کو مکمل طور پر بند کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ آسٹریلیا میں کرونا وائرس کے مریضوں کی بڑی تعداد ملک کے باہر سے آئی ہے۔ اور ہم نے جو اقدامات کئے ہیں ان کا اثر ہوا ہے۔ اور اس اقدام کا مقصد بھی یہی ہے کہ اسے مزید آگے بڑھایا جائے۔اگرچہ حکومتوں کی جانب سے سفری پابندیاں کرونا وائرس سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ہیں، تاہم دنیا بھر سے ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک میں جاتے ہیں تعلیم، روزگار، علاج معالجہ۔ وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے مگر اچانک سفر پر کوئی پابندی یا اپنے پیاروں کو کسی وبائی صورتِ حال میں پھنسے دیکھنا کسی کیلئے بھی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…