جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان سے آنے والا کرونا کا مریض فلسطینیوں سے گھل مل گیا

datetime 21  مارچ‬‮  2020 |

مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی)فلسطین کے علاقے مقبوضہ مغربی کنارے میں مقامی حکام نے بتایا ہے کہ شمالی شہر سلفیت کے نواحی علاقے قراوہ بن حسان سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کرونا کا شکار ہونے کے باوجود بلا روک ٹوک لوگوں سے ملتا رہا۔ کرونا وائرس کا شکار ہونے کے باوجود اس نے گائوں میں 250 افراد سے ملاقات کی۔ خدشہ ہے کہ کرونا وائرس اس شخص سے دیگر لوگوں کو بھی منتقل ہوسکتا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق غرب اردن کی شمالی گورنری سلفیت کیگورنر عبداللہ کمیل نے بتایا کہ بنی حسان کے ایک مقامی شخص نے 250 افراد سے ملاقات کی۔ جب پتا چلا کہ وہ کرونا کا شکار ہوچکا ہے تو اس وقت تک وہ اڑھائی سو لوگوں سے مل چکا تھا۔ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ کرونا سے متاثرہ شخص ایک ہفتہ قبل پاکستان سے واپس آیا۔ اس نے چار ماہ تک پاکستان میں قیام کیا جس کے بعد وہ واپس فلسطین پہنچا ہے۔پاکستان سے واپسی کے بعد اس نے مقامی مسجد میں نماز ادا کی اور اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کی۔سلفیت کیگورنر کا کہنا تھا کہ پاکستان سے واپس آنے والے شخص کا بیٹا بھی اس کے ساتھ تھا تاہم وہ کرونا کا شکار نہیں ہوا۔ اسے بھی قرنطینہ منتقل کردیا گیا ہے۔مریض کو سلفیت میں ہوگو شاویز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ممریض سے ملنے والے تمام افراد کو پیغام بھیجا گیا ہے کہ وہ خود کو قرنطینہ کر لیں اور دوسرے لوگوں سے ملاقات نہ کریں۔فلسطینی گورنر نے بتایا کہ کرونا کے مریض کی قراوہ بنی حسان میں آمد کے بعد گائوں کو سیل کردیا گیا ہے۔ ایک طبی ٹیم کو علاقے میں لوگوں کے طبی معائنے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…