ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

چینی صدر کی کورونا سے نمٹنے پر تقریر کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ایگزیکٹو لاپتہ ،جانتے ہیں انہوں نے شی جن پنگ کو کیا کہہ کر پکارا تھا؟

datetime 16  مارچ‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بیجنگ(آن لائن)ایک بااثر سابق چینی پراپرٹی ایگزیکٹو جنہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کی گزشہ ماہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے کی گئی تقریر پر انہیں ‘مسخرہ’ کہا تھا، لاپتہ ہوگئے۔چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے رکن اور سابق سرجاری پراپرٹی ڈویلپرہوایوان ریئل اسٹیٹ کے اعلیٰ ایگزیکٹو رین زیکیانگ جت 3 دوستوں نے ان کی گمشدگی کی تصدیق کی اور کہا کہ ان سے 12 مارچ سے رابطہ نہیں ہوا ہے۔

اب کی قریبی دوست وانگ ینگ نے رائٹرز کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے کئی دوست ان کو تلاش کر رہے ہیں اور اور سب بہت فکر مند ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ رین زیکیانگ کے ایک عوامی شخص تھے اور ان کی گمشدگی کا بہت لوگوں کو علم ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘جو ادارہ اس کا ذمہ دار ہے اسے مناسب اور قانونی وضاحت جلد از جلد دینی ہوگی’۔بیجنگ کی پولیس نے فون اور فیکس کے ذریعے رائے کی درخواستوں پر فوری رد عمل نہیں دیا ہے۔چینی ریاستی کونسل کے معلومات کے دفتر نے بھی رائے کی درخواست پر جواب نہیں دیا۔رین زیکیانگ کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں اپنے دوستوں سے شیئر کیے گئے ایک مضمون میں چینی صدر کی 23 فروری کی تقریر پر تنقید کی گئی جس کی بعد ازاں دیگر نے کاپیاں آن لائن کردی تھیں۔امریکا سے چلنے والی ویب سائٹ چائنہ ڈیجیٹل ٹائمز کے مطابق اس مضمون جس میں شی جن پنگ کو ان کے نام سے مخاطب نہیں کیا گیا تھا رین زیکیانگ نے تقریر کا مطالعہ کرنے کا بعد کہا تھا کہ ‘مجھے ایک حکمراں کھڑا اپنے نئے لباس دکھاتا نظر نہیں آیا بلکہ ایک برہنہ کھڑا مسخرہ نظر آیا جو بار بار خود کو حکمران بتارہا تھا’۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جماعت کے اندر ‘گورننس کا بحران’ ہے اور آزاد میڈیا اور آزادی اظہار رائے کے نہ ہونے سے وبا کو فوراً روکا نہیں جاسکا اور صورتحال مزید خراب ہوگئی۔

رین زیکیانگ کی گمشدگی ایسے موقع پر سامنے آئی جب مقامی میڈیا اور آن لائن صارفین کے وبا پر بحث کرنے پر سینسر شپ حالیہ ہفتوں میں مزید سخت ہوگئی ہے۔رین زیکیانگ جنہیں ‘کینن رین’ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، کو اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پر حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی سزا میں پارٹی نے 2016 میں ایک تک نگرانی میں رکھا تھا۔اس سال حکومت نے ٹوئٹر جیسے چینی پلیٹ فارم ویبو سے رین زیکیانگ کا اکاؤنٹ بند کرنے کا بھی حکم دیا تھا جس میں ان کے اس وقت 3 کروڑ فالوورز تھے۔حکومت نے کہا تھا کہ وہ ‘غیر قانونی معلومات پھیلارہے ہیں’۔بیجنگ نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ کو ‘عوام کی جنگ’ قرار دیا ہے جس کی قیادت شی جن پنگ کر رہے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…