جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس! مؤذن نے اذان کے الفاظ ہی بدل دئیے!جانتے ہیں حی علی الصلاۃ کی جگہ کیاالفاظ پکار کرنمازیوں کوپیغام دیا؟

datetime 14  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نماز گھر سے پڑھو، کویت میں مؤذن نے اذان کے الفاظ بدل کر ادا کیے۔ اذان کی اس صورت کا ذکر صحیح بخاری میں جہاں حی علی الصلاۃ (آؤ نماز کی طرف) کی بجائے الصلاۃ فی بیوتکم (اپنے گھروں میں نماز پڑھو) کا حکم ہے۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کویتی مسجد میں مؤذن نے جمعہ کے روز اذان کے الفاظ بدل کر ادا کیے جس میں لوگوں کو گھروں سے نماز پڑھنے کا کہا گیا۔نبی اکرم ﷺ کے دور میں بھی تیز بارش اور طوفان کے دوران ایسی اذان دیے جانے کی روایات موجود ہیں۔ روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارش و الے دن اپنے مؤذن سے کہا: جب تم (اذان میں) اشھد ان محمد رسول اللہ کہو تو پھر حی علی الصلاۃ (آؤ نماز کی طرف) نہ کہو، بلکہ کہو، الصلاۃ فی بیوتکم (اپنے گھروں میں نماز پڑھو) لیکن لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ کام اس ہستی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا ہے جو مجھ سے بہت بہتر ہیں۔ بے شک جمعہ لازم ہے اور یقیناً میں نے ناپسند کیا کہ تم کو باہر نکالوں، پھر تم مٹی اور کیچڑ میں چل کر آؤ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…