جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

مسلمانوں کی املاک اور مساجد کو نقصان پہنچائے جانے پر دل گرفتہ ، بھارت مسلمانوں کا قتل عام رکوائے، ایرانی مجلس خبرگان کا مطالبہ

datetime 11  مارچ‬‮  2020 |

تہران(آ ن لائن ) ایران کی مجلس خبرگان نے مودی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم رکوائے جائیں اور ان کا قتل عام بند کیا جائے۔ایرانی مجلس خبرگان نے کہا ہے کہ ہم بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام اور املاک کو نقصان پہنچائے جانے کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ایرانی مجلس خبرگان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی املاک اور مساجد کو نقصان پہنچائے جانے پر دل گرفتہ ہیں، نئی دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام پر ہر دل افسردہ ہے۔مجلس خبرگان کا کہنا تھا کہ یہ قتل عام اس وقت شروع ہوا جب امریکی صدر بھی بھارت کے دورے پر تھے مگر مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر بھارتی میڈیا نے مکمل بلیک آوٹ کیا۔ایرانی مجلس خبرگان کے مطابق ہندو انتہا پسندوں کو اکسانے میں بھارتی حکومتی اہلکار ملوث ہیں۔خیال رہے کہ چند روز قبل ایران کے رہبر اعلیٰ ا?یت اللہ خامنہ ای نے بھی بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے ہندو انتہا پسندوں کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے ایک پیغام میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’ہندوستان میں مسلمانوں کے قتل عام پر دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل رنجیدہ ہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…