جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

امام کعبہ کی کرونا سے بچائو کے اقدامات کی شرعی حیثیت پرخصوصی رہ نمائی

datetime 9  مارچ‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی )امام کعبہ اور حرمین شریفین جنرل پریزی ڈینسی کے چیئرمین الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس نے گذشتہ شام نماز عشاء کے بعد مسجد حرام میں کرونا وائرس سے بچائو کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی شرعی حیثیت اور اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے مسجد حرام میں موجود نمازیوں اور زائرین سے خطاب میں کہا کہ حکومت اور حرمین شریفین انتظامیہ کی طرف سے

کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلائو کی روک تھام کے لیے جتنے بھی اقدامات کیے ہیں وہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہیں۔ یہ اقدامات اسلام کے شرعی اصولوں کے عین مطابق ہیں۔سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق عبدالرحمان السدیس نے تمام زائرین مسجد حرام پر زور دیا کہ وہ ایمان کے ساتھ توکل علی اللہ پرقائم رہیں۔ اس کے بعد سعودی مملکت کی طرف سے حفظان صحت کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں ان کی پابندی کو یقینی بنائیں تاکہ بلاد حرمین کو کرونا وائرس جیسی مہلک وبا سے محفوظ رکھا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد مسجد حرام ، بیت اللہ کی زیارت کے لیے آنے والے مسلمانوں اور مسجد نبوی کی میں حاضری دینے والے فرزندان توحید کی جانوں کا تحفظ ہے اور اس کے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ رات کے اوقات میں مسجد حرام اور مسجد نبوی کو زائرین کے لیے بند کرنے کا مقصد دونوں مساجد کی صفائی کو یقینی بنانا ہے۔ اس طرح ہم کرونا جیسی مہلک وباء کے پھیلائو کی روک تھام میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہا کہ کرونا کی روک تھام کے لیے ہمارے پاس اللہ کے رسول کا وہی حکم ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کی روک تھام کے حوالے سے بیان فرمایا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا کہ اگر تم (طاعون) کے بارے میں سنو تو اس علاقے کی طرف نہ جائو، اگر آپ اس علاقے میں موجود ہو تو وہاں سے باہر نہ جائو۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…