پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ سمیت کئی عالمی رہنماؤں کا ڈی این اے چْرا لیاگیا طاقتور سربراہانِ مملکت کا ڈی این اے کب چرایا گیا، یہ ڈی این اے کی بولی کتنی لگائی ، رقم پاکستان روپوں میں کتنے کروڑ بنتی ہے ؟ جانئے

datetime 21  فروری‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی) دی ’’ارنسٹ پروجیکٹ‘‘ نامی ایک آن لائن گروپ نے چار عالمی رہنماؤں کا ڈی این اے انٹرنیٹ پر نیلامی کیلیے پیش کردیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ ڈی این اے کے یہ تمام نمونے 2018ء  میں منعقدہ ’’ورلڈ اکنامک فورم‘‘ ڈاووس کے دوران مختلف عالمی رہنماؤں کے زیرِ استعمال رہنے والی چیزوں پر موجود ہیں جنہیں چوری کرکے محفوظ کرلیا گیا تھا۔گروپ کا مؤقف ہے کہ

دنیا بھر کی سرمایہ دار کمپنیاں اور حکومتیں ایک عام انسان کا حساس ڈیٹا ہر وقت جمع کرتی رہتی ہیں، چاہے صارف کو اس کی خبر ہو یا نہ ہو؛ اور چاہے یہ عمل صارف کی مرضی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔لیکن بات صرف یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا کاروباری فائدے اور سیاسی مفاد تک کے لیے استعمال بھی کیا جاتا ہے جبکہ سرمایہ دار ادارے اس کی خرید و فروخت بھی کرتے ہیں جو تخلیہ (پرائیویسی) اور اخلاقیات، دونوں ہی کے خلاف ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ یہ مسئلہ بھی سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔جن طاقتور عالمی رہنماؤں کا ڈی این اے چوری کیا گیا ہے ان میں امریکی صدر ٹرمپ، جرمن چانسلر انجیلا مرکل، فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتین یاہو کے نام لکھے گئے ہیں تاہم اس فہرست میں دیگر عالمی رہنما بھی شامل ہیں۔ڈی این اے کے یہ نمونے نیپکنز، کافی کپ، جار، ٹوٹے ہوئے بالوں، سگریٹ فلٹرز، گلاسوں اور ناشتے کے کانٹوں پر محفوظ حالت میں موجود ہیں جن کی بولی 1200 ڈالر (تقریباً ایک لاکھ 85 ہزار روپے) ڈالر سے لے کر 65000 ڈالر (ایک کروڑ پاکستانی روپے) سے شروع کی جائے گی۔ البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ کس چیز پر کونسے عالمی رہنما کا ڈی این اے موجود ہے۔ارنسٹ گروپ کا مؤقف ہے کہ ڈی این اے کی شکل میں جب طاقتور عالمی رہنماؤں کا نجی ڈیٹا دنیا میں فروخت ہوگا تو انہیں اس معاملے کی سنگینی کا احساس ہوگا، اور شاید تب کہیں جاکر ایک عام شہری کی نجی معلومات کو تحفظ دینے کیلیے ٹھوس اقدامات بھی کیے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…