جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

یہ کام ہر گز نہ کرنا، محبوبہ مفتی نے بیٹی کو خط میں کس چیز سے منع کیا؟ بیٹی نے والدہ سے چپاتیوں میں خط چھپا کر رابطہ کیا، حیران کن انکشافات

datetime 7  فروری‬‮  2020 |

سرینگر (آن لائن) مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا اقبال کا کہنا ہے کہ والدہ سے چپاتیوں میں خط چْھپا کر رابطہ کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر محبوبہ مفتی کے تصدیق شدہ اکاؤنٹ سے جو ان کی گرفتاری کے بعد سے ان کی بیٹی التجا اقبال چلا رہی ہیں، ایک طویل خط سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چھ ماہ سے کشمیری عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور شدید معاشی اور نفسیاتی مصائب کا شکار ہیں۔

محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا اقبال کی جانب سے شیئر کئے گئے پیغام میں گزشتہ چھ ماہ سے مقبوضہ وادی میں ہونے والی انسان حقوق کی خلاف ورزیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز مقبوضہ وادی میں قابض انتظامیہ نے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کردیا ہے جس کے تحت نیشنل کانفرنس کے رہنماء عمر عبداللہ اور پی ڈی پی کی رہنماء محبوبہ مفتی کو عدالت میں پیش کئے بغیر تین ماہ تک جیل میں نظربند رکھا جاسکتا ہے۔دونوں سابق وزرائے اعلیٰ گزشتہ سال 5اگست کو بھارت کی طرف سے اپنے آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد سے غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں۔محبوبہ مفتی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کئے گئے ایک خط میں التجا نے بتایا کہ نظر بند ہوتے ہوئے محبوبہ مفتی نے ان سے کس طرح رابطہ کیا۔التجا لکھتی ہیں کہ والدہ کو جب نظر بند کیا گیا تو شروع میں انہیں کافی دشواریوں کا سامنا رہا، انہوں نے بتایا کہ ایک روز ٹفن باکس جس میں گھر کا کھانا پکا ہوا تھا اس میں ساتھ ہی خطوط بھی رکھے ہوئے تھے۔اس خط میں 60 سالہ محبوبہ مفتی نے اپنی بیٹی کے لیے پیغام لکھا کہ وہ کسی سے بھی رابطہ کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کریں گی، اگر ان کی جگہ کوئی ایسا کرے گا تو اس پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔آخر میں انہوں نے بیٹی کے لیے اپنی محبت کا اظہار کیا۔محبوبہ مفتی کو والدہ سے ملنے نہیں دیا گیا، بیٹی اور والدہ کا بیان التجا اقبال لکھتی ہیں کہ اس مختصر پیغام کا جواب دینے کا حوصلہ ہوا، جس کا حل انہیں ان کی دادی نے دیا، التجا کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے خط کو چپاتی کے اندر تہہ کر کے والدہ تک پہنچایا۔نظر بند ہونے کے فوراً بعد محبوبہ مفتی کو چشمشاہی گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا تھا لیکن دسمبر میں سری نگر کے ایم اے روڈ پر واقع ایک سرکاری بنگلے میں منتقل کردیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…