جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

افغانستان میں تباہ ہونے والے طیارے میں سی آئی اے اور امریکی فوج کے اعلی حکام سوار تھے، طالبان نے طیارہ گرانے کی ذمے داری قبول کر لی

datetime 27  جنوری‬‮  2020 |

کابل(این این آئی) افغانستان میں مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا مسافر میں 80سے زائد افراد سوار تھے، حادثے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کی سرکاری ائیرلائن آریانا ائیرلائنز کا مسافر طیارہ ہرات سے کابل کیلئے پرواز کررہا تھا جو صوبہ غزنی کے مشرقی ضلع دیہک کے پہاڑی علاقے میں گر کر تبا ہوگیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق طیارے میں 80 سے

زائد مسافر سوار تھے اور طیارہ جس علاقے میں گر کر تباہ ہوا یہ علاقہ طالبان کے زیر کنٹرول ہے۔افغان میڈیا کے مطابق طیارہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے کے قریب گرا جس میں سوار مسافروں اور عملے کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔صوبہ غزنی کے گورنر کے ترجمان نے طیارہ حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طیارہ دیہک ضلع کے علاقے سادو خیل میں گرا جب ہ حادثے میں ہلاکتوں کے حوالے سے اب تک مصدقہ اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ترجمان گورنر نے مسافر طیارہ گرنے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ یہ علاقہ طالبان کے زیر اثر ہے اس لیے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حادثے میں جانی نقصان سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔عینی شاہدین کے مطابق طیارہ گرنے کے بعد طیارے میں آگ بھڑک اْٹھی، حادثہ اتنا خوفناک ہے کہ طیارے میں موجود مسافروں کے زندہ بچ جانے کے امکانات نہایت کم ہیں۔ البتہ غزنی صوبے کے گورنر کے ترجمان عارف نوری نے کہا کہ ابھی تک یہ علم نہیں کہ یہ مسافر طیارہ تھا یا فوجی اور یہ بھی معلوم نہیں کہ اس میں کتنے مسافر سوار تھے۔صوبائی پولیس کے ترجمان نے بھی طیارے کی تباہی کی تصدیق کردی ہے تاہم وہ بھی یہ شناخت کرنے میں ناکام رہے کہ یہ مسافر طیارہ تھا یا فوجی۔تین سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ افغانستان کی سرکاری فضائیہ آریانا کا طیارہ تھا تاہم فضائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میر واعظ میر زکوال نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔میر زکوال نے کہ طیارہ تباہ ہوا ہے لیکن وہ ہمارا نہیں۔انہوں نے کہا کہ آریانا کی جانب سے چلائی جانے والی کابل سے ہرات اور ہرات سے دہلی کی دونوں پروازیں محفوظ ہیں۔افغان صدر اشرف غنی کے دفتر کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ طیارہ صوبہ غزنی میں گر کر تباہ ہوا اور حکام تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…