جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

آسٹریلوی پروفیسر نے رہائی کے بدلےایران نے کونسی آفر دی جس کا اس نے انکار کر دیا ، خطرمنظر عام پر آگیا

datetime 24  جنوری‬‮  2020 |

لندن(این این آئی)تہران کی ایک جیل میں قید میلبورن یونیورسٹی کی پروفیسر کیلی مور گلبرٹ نے اپنی رہائی کے بدلے ایران کے لیے جاسوسی کرنے کی پیش کش کو مسترد کر دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برٹش آسٹریلین ڈاکٹر کیلی مور گلبرٹ مشرق وسطیٰ امور کی ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ میلبورن یونیورسٹی میں اسلامی علوم کی پروفیسر بھی ہیں۔ وہ 2018سے تہران کے شمال میں

واقع اوین جیل (زندان اوین) میں قید ہیں۔ ان کو جاسوسی کرنے کے الزام میں دس برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ کیلی مور نے جیل حکام کو ایک خط لکھا تھا جو خفیہ طریقے سے برطانوی اخبار  تک پہنچا اور انہوں نے یہ شائع کیا ۔کیلی مور گلبرٹ نے ہاتھ سے لکھے گئے ایک خط میں اپنے کیس مینجرکو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میں جاسوس نہیں تھی اور میں نے کبھی بھی کسی ملک یا تنظیم کے لیے جاسوسی نہیں کی اور مجھے نہ ہی جاسوسی کرنے میں کوئی دلچسپی ہے۔ لہذا میرے اس خط کو پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس برانچ کی طرف سے جاسوسی کرنے کی پیش کش کے جواب میں قطعی طور پر انکار سمجھا جائے۔انہوں نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ میں ایران کی قید سے نکل کر ایک آزاد عورت بن کر ایک آزاد زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔ میں دھونس اور دھمکیوں کے سائے میں زندگی بسر نہیں کرنا چاہتی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…