جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

تہران یونیورسٹی ایرانی پولیس اور طلباء کے درمیان میدان جنگ بن گئی ، جامع امیرکبیر میں طلباء کے حکومت کیخلاف مظاہرے ،یونیورسٹی کا گھیرائو کرلیا

datetime 15  جنوری‬‮  2020 |

تہران (این این آئی)ایران میں پاسداران انقلاب کی طرف سے یوکرین کا مسافرطیارہ مار گرائے جانے کے واقعے کے بعد عوامی غم وغصہ بدستورموجود ہے اور ملک میں کئی مقامات پر حکومت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔

گزشتہ روز تہران یونیورسٹی میں طلباء اور پولیس کے درمیان کئی گھنٹے تک تصادم جاری رہا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تہران کی جامع امیرکبیر میں طلباء نے حکومت کے خلاف مظاہرے شروع کیے تو پولیس نے یونیورسٹی کا گھیرائو کرلیا۔ تہران یونیورسٹی کے طلباء اتحاد کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاسیج فورس اور طلباء کے درمیان کئی گھنٹے محاذ آرائی ہوئی۔سوشل میڈیا پر پوسٹ کردہ فوٹیج میں بتایا گیا کہ دارالحکومت تہران میں بڑی تعداد میں لوگوں نے یوکرین کا طیارہ مار گرائے جانے کے خلاف احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔خیال رہے کہ 8 جنوری 2020ء کو تہران میں یوکرین کا ایک مسافر ہوائی جہاز گرکرتباہ ہوگیا تھا۔ بعد ازاں ایران نے تسلیم کیا تھا کہ یوکرین کے ہوائی جہاز کو غلطی سے میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ طیارے پر 176 افراد سوار تھے جن میں سے کوئی زندہ نہیں بچ سکا تھا۔اس واقعے کے بعد ایران میں طلباء اور نوجواںوں بڑی تعداد سڑکوں پرنکل آئی تھی۔ طیارہ مار گرانے کے خلاف ایران میں احتجاج کل چوتھے روز بھی جاری رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…