جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے مودی کو پاکستان کا سفیر کیوں قرار دیا؟ حیران کن وجہ سامنے آ گئی

datetime 3  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے نریندر مودی کو پاکستان کا سفیر قرار دے دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف نکالی جانے والی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بینر جی نے کہا کہ

وزیراعظم مودی بھارت کے بارے میں بات کرنے کے بجائے پورا دن پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کیوں ہمیشہ اپنی قوم کا پاکستان کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں؟ آپ (مودی) کو بھارت کے لیے بولنا چاہیے، ہم پاکستان نہیں بننا چاہتے، ہم ہندوستان سے پیار کرتے ہیں لیکن وزیراعظم مودی پورا دن پاکستان کی بات کرتے ہیں جیسے وہ پاکستان کے سفیر ہیں۔ممتا بینرجی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کہتا ہے مجھے نوکری دو میرے پاس کوئی کام نہیں تو وزیراعظم اسے پاکستان جانے کا کہہ دیتے ہیں، اگر کوئی کہتا ہے ہمارے پاس انڈسٹری نہیں تب بھی وہ اسے پاکستان جانے کا کہتے ہیں، پاکستان کا چرچا پاکستان کرے ہم ہندوستان کا چرچا کریں گے، یہ ہماری جائے پیدائش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت بڑی ثقافت اور ورثے کے ساتھ ایک بڑا ملک ہے تو پھر کیوں ہم مسلسل اپنی قوم کا پاکستان کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں؟۔ممتا بینر جی نے متنازع قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ جب تک اس متنازع قانون کو ختم نہیں کیا جاتا ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ آزادی کے 70 سال بعد بھی ہمیں اپنی شہریت ثابت کرنا پڑتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…