جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ماں کی عدم موجودگی میں بار بار رونے والے بچے کی والدہ نے ایسا حیران کن کام کیا کہ بچے نے رونا چھوڑ دیا،انتہائی دلچسپ صورتحال

datetime 20  دسمبر‬‮  2019 |
فوٹو:انٹرنیٹ

ٹوکیو(این این آئی) چھوٹے بچے ہر وقت نگاہوں کے سامنے اپنی ماں کو دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کیلیے ایک جاپانی خاتون نے حقیقت سے بھرپور، اپنے قدِآدم پوسٹر بنوائے ہیں اور کٹ آؤٹ کی صورت میں گھر کے مختلف کمروں میں لگادیئے ہیں۔جاپان میں ایک جوڑے نے دیکھا کہ ان کا ایک سالہ بچہ ماں کی عدم موجودگی پر بار بار رونے لگتا ہے اور اس کی وجہ سے والدہ کام کرنے سے عاجز تھی۔

اس کا حل نکالتے ہوئے فوکی سیٹو نامی خاتون نے ایک ذہانت بھرا تجربہ کیا۔ انہوں نے اپنی تصاویر کھنچوا کر ان کے پوسٹر چھپوائے اور انہیں اپنے اصل قد والے گتوں پر چپکا کر مختلف کمروں میں ایسی جگہ پر رکھ دیا جہاں بچہ بار بار انہیں دیکھ سکے۔اس کا حل یہ نکلا کہ بچہ ماں کا اصل سے قریب پوسٹر دیکھ کر مطمئن رہا اور رونا بھی چھوڑ دیا۔ یہ تصاویر اب بھی جاپان کے سوشل میڈیا پر مقبول ہورہی ہیں جہاں لوگوں نے اس عمل کو بہت سراہا ہے۔ بعض افراد نے کہا ہے کہ والدین کی جانب سے بچے کا اتنا خیال رکھنے والا یہ جوڑا ازخود قابلِ تحسین بھی ہے۔اس طرح فوکی سیٹو خود بہت سکون میں ہیں اور بچہ بھی خوش ہے۔ اس بچے کی وائرل ویڈیو میں آپ اس کی والدہ کی تصویر ہر کمرے میں دیکھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک سالہ بچہ بار بار مڑ کر اپنی ماں کو دیکھتا رہتا ہے گویا اسے اطمینان ہے کہ والدہ اس کے پاس موجود ہیں۔تاہم یہ کارڈ بورڈ اتنے حقیقی ہیں کہ ان پر اصل خاتون کا گمان ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے میں بچہ 20 منٹ تک تو تصویر کو اصل سمجھتا رہا لیکن اس کے بعد اس نے ماں کی تصویر کو بے جان سمجھا اور دوبارہ رونے لگا۔ لیکن فوکی کے مطابق یہ 20 منٹ بھی ان کے لیے بہت ہیں کیونکہ وہ اس طرح دیگر کام انجام دے سکتی ہیں۔والدہ کی تصاویر ہر کمرے میں موجود ہیں اور بچہ ایک کے بعد ایک کمرے میں تصاویر دیکھ کر بڑا اطمینان محسوس کرتا ہے۔ بچے کے والد نے کہا کہ اگرچہ بیٹا جلد ہی تصاویر سے بور ہوجاتا ہے لیکن یہ وقت بھی ان کی والدہ کیلیے بہت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…