بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

عراق میں ایرانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم زور پکڑ گئی

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

بغداد(این این آئی)عراق میں جاری حکومت مخالف مظاہروں میں ایرانی لیڈر شپ کے خلاف نعرے بازے اور ایران کی عراق کے داخلی امور میں مداخلت کی مذمت کے بعد سوشل میڈیا پر جاری ایک مہم میں ایرانی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی مصنوعات کو دفع کرو کے عنوانات کے تحت سوشل میڈیا پرجاری اس مہم میں شہریوں سے اپیل کی

گئی ہے کہ وہ ایرانی مصنوعات کی خریداری کا بائیکاٹ کریں۔یہ مہم ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب حال ہی میں عراق کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین نے قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے پتلے نذرآتش کیے اور ان کی تصاویر مسخ کی تھیں۔مظاہرین کی طرف سے عراق کے اندرونی معاملات میں تہران کی مداخلت کی شدید مذمت کے ساتھ ایرانی حکومت کے خلاف سخت غم وغصے کا اظہار کیا گیا۔سوشل میڈیا پرایرانی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حوالے سے جاری تحریک میں ایران میں تیار ہونے والی ہرطرح کی اشیاء کے بائیکاٹ پر زور دیا گیا۔عراق کے سرکردہ شیعہ رہ نما آیت اللہ علی السیستانی کے نمائندے نے کربلا میں ایک خطبہ کے دوران کہا کہ عراقیوں کی مرضی کے بغیر ان پر اپنی رائے مسلط کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔خیال رہے کہ بہت سے عراقی موجودہ سیاسی طبقے کو ایران کا وفادار سمجھتے ہیں۔ وہ عراق کو امریکا اور ایران کے مابین علاقائی تسلط کی جدوجہد کے ایک پراکسی میدان کے طور پربھی دیکھ رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…