بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ترک فوج کے حملے میں امریکی فوج بھی زد میں آگئی

datetime 13  اکتوبر‬‮  2019 |

تل ابیض(این این آئی) شام میںں علیحدگی پسند کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے ترک افواج کی پیش قدمی جاری ہے تاہم اس دوران غلطی سے ایک امریکی فوج کی چوکی بھی زد میں آگئی۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام میں کردوں کے خلاف ترک فوجی کی کارروائی

گھمسان کی جھڑپ جارہی رہی جس کے دوران غلطی سے امریکی فوج کی ایک چوکی غلطی سے زد میں آگئی تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔شام میں تعینات امریکی فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ترک فوج کی گولہ باری کی زد میں امریکی فوج کی ایک چوکی بھی آگئی تاہم گولہ باری کے نتیجے میں امریکی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پینٹاگون کے مطابق اس واقعے پر ترک فوج کو متنبہ بھی کیا گیا ہے۔دوسری جانب ترک افواج نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ شام میں کارروائی کے دوران امریکی چوکی ان کا ہدف نہیں تھا بلکہ گولہ باری امریکی چوکی کے قریب کرد جنگجوئوں کے آک عسکری ہدف پر کی گئی تھی جہاں سے گزشتہ روز کرد جنگجوئوں نے ترک پولیس اسٹیشن پر میزائل داغے تھے۔ترکی کے وزیر خارجہ نے معاملے کی سنگینی کا ادارک کرتے ہوئے پینٹاگون سے رابطہ کیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم بنانے پر زورد دیا تھا تاکہ اس قسم کے واقعات مزید رونما نہ ہوسکیں اور اعتماد کی فضا قائم رہے۔واضح رہے کہ ترک صدر نے شام میں کردوں کے زیر تسلط علاقے میں فوجی آپریشن سے قبل امریکی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں شام اور ترک سرحد سے امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا جس پر امریکا نے ترک فوج کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے سابق اتحادی کردوں کی ناراضگی کے باوجود اپنی فوجیں واپس بلالی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…