بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

شام میں ترک آپریشن کے بعد دسیوں ہزار افراد بے گھر

datetime 11  اکتوبر‬‮  2019 |

انقرہ /دمشق (این این آئی)ترکی کی افواج کی جانب سے کردوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر حملوں میں تیزی آنے کے بعد شمالی شام میں دسیوں ہزار افراد نے اپنے گھر بار چھوڑ دیے ہیں۔ترک فوج نے سرحدی قصبوں راس العین اور تل ابیض کو گھیرے میں لے لیا ہے اور امدادی اداروں کو خدشہ ہے کہ یہ انخلا لاکھوں کی تعداد تک پہنچ سکتا ہے۔دوسری جانب عالمی برادری کی جانب سے ترکی کے اس اقدام کی مذمت کی جا رہی ہے۔

اور ترکی پر زور دیا جا رہا کہ وہ یہ حملے بند کرے۔ترکی نے کرد ملیشیا سے پاک محفوظ زون بنانے کی اپنی کارروائی کا دفاع کیا ہے جہاں شامی مہاجرین بھی رہ سکتے ہیں۔ترکی کرد ملیشیا کی سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو دہشت گرد قرار دیتا ہے جو اس کے بقول ترکی مخالف شورش کی حمایت کرتی ہیں۔واضح رہے کہ ایس ڈی ایف دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکہ کی کلیدی حریف رہی ہیں۔خیال رہے کہ ترکی کی یہ کارروائی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس خطے سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی ہے اور اس اقدام کو دراصل حملے کی اجازت کے حربے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔امریکہ میں صدر ٹرمپ کے رپبلکن اتحادیوں میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا نے ترکی کو موثر طور پر حملے کے لیے گرین لائٹ دی۔بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق 64,000 افراد پہلے ہی اپنا گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔ برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی یہی تعداد بتائی ہے۔آئی آر سی کی مستی بس ویل کا کہنا ہے اگر کارروائی جاری رہی تو یہ ممکن ہے کہ 300,000 افراد بے گھر ہو سکتے ہیں۔ایک دوسری امدادی تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ یہ تعداد 450,000 بھی ہو سکتی ہے۔بس ویل کا کہنا ہے آئی آر سی کی ٹیمیں گراؤنڈ میں موجود ہیں، اگرچہ دیگر اطلاعات کے مطابق کچھ امدادی گروپ ترکی کی سرحد سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…