بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت نے کشمیری رہنما شبیر شاہ کی جائیداد ضبط کرلی،اہلیہ اور 2 بیٹیوں کو گھر خالی کرنے کا نوٹس جاری

datetime 6  اکتوبر‬‮  2019 |

سرینگر (این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے سینئر رہنما شبیر شاہ کی جائیداد ضبط کرلی۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق ای ڈی کی جانب سے شبیر شاہ کی اہلیہ اور 2 بیٹیوں کو جاری ہونے والے نوٹس میں

ان سے راولپورہ میں ان کی رہائش گاہ 10 روز میں خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔شبیر شاہ کی اہلیہ بلقیس شاہ اور 2 بیٹیاں سما شبیر اور سحر شبیر کو ستمبر کے آخر میں نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ادھر نیشنل کانفرنس پارٹی کے وفد کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2 ماہ سے گرفتار ان کے 2 اعلیٰ رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت مل گئی۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پارٹی صدر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ سے ملاقات ریاست کے دارالحکومت سری نگر میں ہوئی۔واضح رہے کہ دونوں افراد کو بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لینے کے فیصلے کے بعد گرفتار کیا تھا۔فاروق عبداللہ کو سری نگر میں ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کیا گیا ہے جبکہ ان کے بیٹے عمر عبداللہ کو ریاست کے گیسٹ ہاؤس میں قید ہیں۔فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کے علاوہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو بھی بھارتی انتظامیہ نے زیر حراست لے رکھا ہے۔مقبوضہ ریاست کو بھارت کے 5 اگست کے اقدامات کے بعد سے لاک ڈاؤن کا سامنا ہے جس کے بعد سے بھارتی حکومت نے مواصلات تک رسائی بند کردی تھی اور خطے میں احتجاج کو روکنے کے لیے پابندیاں عائد کردی تھیِں۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بارہا بھارت سے سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے اور مقبوضہ کشمیر سے پابندیاں ہٹانے کا کہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…