بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں صدارتی انتخابات،کابل سمیت کئی دیگر صوبوں میں طالبان کے شدید حملے،32 افراد جاں بحق‘123 زخمی

datetime 29  ستمبر‬‮  2019 |

کوہاٹ/کابل(این این آئی)افغانستان میں صدارتی انتخابات کے موقع پرکابل سمیت کئی دیگر صوبوں میں طالبان کے حملوں اورمسلح جھڑپوں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 32 افراد جاں بحق‘123 زخمی اور افغان الیکشن کمیشن کے چھ اہلکاراغواء ہوئے جبکہ افغان حکومت نے فضائی بمباری کے نتیجے میں 25 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن میں طالبان کے ایک معروف اور اہم رہنما مولوی عبدالحنان بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق ہفتہ کے روزمنعقدہ

صدارتی انتخابات کے موقع پرپیش آنے والے مختلف واقعات میں دو پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طورپر (32) افغان شہری ہلاک اور 123 دیگر زخمی ہوگئے جبکہ افغان وزارت دفاع نے دو پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد کی ہلاکت اور 37 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حوالے سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ملک کے 34 میں سے 28 صوبوں میں انتخابات کے موقع پر طالبان نے سو سے زائد حملے کئے جن میں مجموعی طورپر32 افرادزندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے جبکہ 123 لوگ زخمی ہوگئے تاہم طالبان نے ان حملوں میں چارسو افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ افغان انٹیلی جنس ادارے اور سیکیورٹی فورسز نے متعدد دیگر حملے پسپا کرکے انتخابات کے موقع پر بڑے پیمانے پرخونریزی ہونے سے بچالیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ حملے صوبہ ننگرہار میں کئے گئے۔رپورٹس کے مطابق دس صوبوں سرائے عالم‘ ننگرہار‘کنڑ‘ بلخ‘اورزگان‘ لغمان‘ ہلمند‘کابل‘ نورستان اور زابل میں ہلاکتیں ہوئیں۔دریں اثناء افغانستان کی سرکاری خبرساں ادارے نے صوبہ پروان کے الیکشن کمیشن سربراہ عبدالقہار وہاب صافی کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسلح طالبان نے صوبہ پروان میں الیکشن کمیشن کے چھ اہلکاروں کو اْس وقت اغواء کرلیا جب وہ پولنگ ختم ہونے کے بعد چاریکر شہر واپس جا رہے تھے۔ادھر افغان ملٹری حکام نے سات افغان صوبوں میں فضائی حملوں اور فوجی آپریشن کے دوران 24 مزاحمت پسندوں اور

شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق صوبہ غورکے ضلع دولت یار میں فضائی حملے میں 9‘صوبہ تخارمیں 5‘ صوبہ ہرات کے ضلع شین ڈھنڈ میں 3‘صوبہ وردک کے ضلع جلریز‘صوبہ فریاب کے ضلع پشتون کوٹ‘ صوبہ لوگر کے اضلاع پل عالم باراکی بارک اور صوبہ ہلمند کے ضلع نہرسراج میں 2‘2 شدت پسند مارے گئے۔دریں اثناء جنوب مشرقی صوبہ غزنی کے ضلع خوگیانی میں ہوائی حملے میں طالبان کے ایک اہم رہنمامولوی عبدالحنان بھی جاں بحق ہوگئے ہیں

تاہم طالبان نے واقعہ پر ردعمل کا اظہارنہیں کیا ہے۔ ادھر صوبہ غزنی کے ضلع خواجہ عمری کے گاؤں دیہہ حاجی میں جمعہ اور ہفتہ کی شب ہونے والے فضائی حملے میں چھ افغان شہریوں کی ہلاکت پر مقامی افراد نے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا اور تمام جاں بحق افراد کی لاشیں اٹھا کر صوبائی گورنر کے دفتر کے سامنے زبردست احتجاج کیا۔ آمدہ اطلاعات کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے ہوائی فائرنگ جس کے نتیجے میں سات افراد زخمی بھی ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…