اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں کیا ہورہاہے؟ صورتحال کے بارے میں یورپی پارلیمنٹ کی طرف سے دستاویز جاری،انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 27  ستمبر‬‮  2019 |

برسلز (این این آئی) یورپی پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیرکی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں ایک تازہ دستاویز جاری کی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دستاویز میں کہاگیا ہے کہ پانچ اگست سے مقبوضہ وادی میں ہزاروں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کیاگیا ہے۔  یورپی پارلیمنٹ کی ریسرچ سروس کی طرف سے جاری دستاویز میں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا حوالہ دیتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے پکڑ دھکڑ کی کارروائیوں،

ذرائع مواصلاتی کی بندش، اہلخانہ کو اپنے رشتہ داروں سے ملاقات سے روکنا اور ادویات کی قلت اور ہسپتالوں تک رسائی میں کشمیریوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کیاگیا ہے۔ دستاویزر میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بھارت کے فیصلے کے حوالے کہاگیا ہے کہ اس اقدام سے مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب بگاڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دستاویز میں خبردار کیاگیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں انسانی بحران پید اہونے کا خدشہ ہے اور نوجوان انتہا پسندی کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔ کشمیر کونسل یورپ کے چیئرمین علی رضا سید نے برسلز سے جاری ایک بیان میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں یورپی پارلیمنٹ کی  طرف سے تازہ ترین دستاویز کے اجراکا خیرمقدم کیا ہے تاہم انہوں نے اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت عالمی برداری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے سے کرفیو ہٹانے اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی بحالی کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔ دریں اثناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیر طلباء نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰYogi Adityanathسے ملاقات سے انکار کر دیاہے۔ وزیر اعلیٰ نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے حاصل ہونے والے فوائد بتانے کیلئے کشمیر ی طلباء کو ملاقات کی دعوت دی تھی۔ کشمیری طلباء نے  ایک بیان میں کہا کہ ایک ایسی صورتحال میں جب مقبوضہ کشمیر میں ذرائع مواصلات معطل ہیں اور غیر قانونی حراستوں، تشدد اورعام شہریوں کی تذلیل کی خبریں عالمی میڈیا کی سرخیاں بن چکی ہیں،

اتر پریش کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کوئی معنی نہیں رکھتی۔ طلباء نے کہا کہ اگر بھارتی حکومت نے انکے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے ان سے مشورہ نہیں کیا اور انہیں اپنے گھر والوں سے بات کرنے سے روک رکھا ہے، وزیر اعلیٰ کے پاس کیا اخلاقی جواز ہے کہ وہ انہیں ملاقات کی دعوت دیں۔ ادھر بھارت کے 780سے زائد ممتاز سائنسدانوں، محققین اور ماہرین تعلیم نے اپنے دوبیانات میں مودی حکومت پر مقبوضہ کشمیرمیں جاری مواصلاتی بندش اورپابندیاں فوری طورپر ختم کرنے پر زوردیا ہے۔ ان بیانات مقبوضہ علاقے کے تعلیمی اداروں پر پابندیوں کے اثرات کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے اور ذرائع مواصلات اور انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…