بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی خواتین کو بڑی آزادی مل گئی خواتین سیاحوں کیلئے عبایا کی شرط ختم کردی گئی

datetime 27  ستمبر‬‮  2019 |

ریاض(این این آئی) سعودی حکومت نے پہلی بار سیاحتی ویزے کا اعلان کردیا جب کہ خواتین سیاحوں کے لیے عبایا لینے کی لازمی شرط بھی ختم کردی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے کیے گئے اعلان میں کہاگیاکہ آن لائن سیاحتی ویزہ 49 ممالک کے لیے ہوگا جب کہ سیاحتی ویزے کا بنیادی مقصد ملک کی

معیشت کو پروان چڑھانا ہے۔اس سیاحتی پروگرام میں خواتین کے لباس کے حوالے سے سعودی حکومت نے اپنے سخت قانون میں ترمیم کی ہے جس میں بیرون ملک سے آنے والی خواتین کو اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ عبایا نہ پہنیں بلکہ مناسب لباس کے ساتھ ملک کی سیر کریں۔سعودی ٹورازم چیف احمد الخطیب کا کہنا تھا کہ سیاحتی ویزے میں بہت سارے ورثے اور آثار قدیمہ والے مقامات ہیں جب کہ مدینہ منورہ اور مقدس مقامات پر سیاحتی ویزے پر آنے والوں کے لیے پابندی ہوگی کیونکہ یہ فی الحال مسلمان زائرین تک ہی محدود ہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کے لیے عبایا لازمی ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی خاتون عام کپڑوں میں باہر نہیں جاسکتی۔سعودی حکومت کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ 2030 تک سیاحت کی مجموعی ملکی پیداوار میں 10 فیصد تک شراکت ہوگی جو اس وقت 3 فیصد ہے۔سعودی حکومت کے مطابق سیاحت کے شعبے میں 10 لاکھ نوکریاں پیدا ہونے کی بھی توقع کی جارہی ہے۔اس سے قبل 2017 میں سعودی ولی عہد نے بحیرہ احمر کے 50 جزیروں اور دیگر قدیم مقامات کو عیش و آرام کی ریزورٹس میں تبدیل کرنے کے لئے ایک ارب ڈالر کے منصوبے کا بھی اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…