پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

ٹرمپ نے امریکی کردار تہس نہس کردیا، کشمیرمیں انسانی المیے پر مکمل خاموشی ناقابل قبول ہے، امریکی سینیٹر کھل کربول پڑے،کھری کھری سنادیں

datetime 24  ستمبر‬‮  2019 |

ہیوسٹن(این این آئی)امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور2020 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا میدان سیاست میں مقابلہ کرنے کے خواہش مند سینیٹر برنی سینڈرزنے اس امر پرسخت افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ٹرمپ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات پر کوئی لفط تک ادا نہیں کیا۔ انہوں نے سخت نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق بنیادی عنصر کے طور پر شامل ہے لیکن امریکی صدر نے

بھارتی اقدامات پر کسی قسم کی تنقید نہیں کی۔77 سالہ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے مؤقر امریکی اخبار میں لکھا کہ امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی عنصر انسانی حقوق ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی جانب سے اٹھائے جانے والے یکطرفہ اقدامات کے بعد سے کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں کو دیگر تکالیف و پریشانیوں کے ساتھ ساتھ علاج معالجے تک کی سہولتیں نہیں مل رہی ہیں۔ہمالیائی وادی چنار کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے سینیٹربرنی سینڈرز نے اپنے تحریر کردہ مضمون میں لکھا ہے کہ صدرڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پرچپ سادھ کرمودی کی ریلی میں شرکت کی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ دونوں کی ہونے والی ملاقات میں دوستی کی بازگشت سنائی دی لیکن انسانی المیے پر مکمل خاموشی ناقابل قبول ہے۔امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے خواہش مند ڈیموکریٹک سینیٹربرنی سینڈرز نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے امریکہ کا عالمی لیڈر شپ کا کردار تہس نہس کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کا معاملہ ہونے والی ملاقات میں اٹھانا چاہئے تھا۔برنی سینڈرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ مطالبہ کریں اورزوردیں کہ کشمیر پرعائد پابندیاں اٹھائی جائیں اورمواصلاتی نظام کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارتی اقدامات انتہائی پریشان کن ہیں۔سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ ٹرمپ نے کشمیرمیں بھارتی اقدامات پر کوئی تنقید نہیں کی لیکن ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ

صدر امریکہ کو عالمی انسانی قوانین کی حمایت میں واضح طور پر بات کرنی ہوگی۔ڈیموکریٹک سینیٹر نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی منشا کے مطابق نکالا جائے۔ انہوں نے صدرڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں دونوں ممالک کے درمیان موجود تنازع کے پرامن حل کی حمایت کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…