بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ نے امریکی کردار تہس نہس کردیا، کشمیرمیں انسانی المیے پر مکمل خاموشی ناقابل قبول ہے، امریکی سینیٹر کھل کربول پڑے،کھری کھری سنادیں

datetime 24  ستمبر‬‮  2019 |

ہیوسٹن(این این آئی)امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور2020 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا میدان سیاست میں مقابلہ کرنے کے خواہش مند سینیٹر برنی سینڈرزنے اس امر پرسخت افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ٹرمپ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات پر کوئی لفط تک ادا نہیں کیا۔ انہوں نے سخت نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق بنیادی عنصر کے طور پر شامل ہے لیکن امریکی صدر نے

بھارتی اقدامات پر کسی قسم کی تنقید نہیں کی۔77 سالہ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے مؤقر امریکی اخبار میں لکھا کہ امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی عنصر انسانی حقوق ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی جانب سے اٹھائے جانے والے یکطرفہ اقدامات کے بعد سے کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں کو دیگر تکالیف و پریشانیوں کے ساتھ ساتھ علاج معالجے تک کی سہولتیں نہیں مل رہی ہیں۔ہمالیائی وادی چنار کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے سینیٹربرنی سینڈرز نے اپنے تحریر کردہ مضمون میں لکھا ہے کہ صدرڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پرچپ سادھ کرمودی کی ریلی میں شرکت کی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ دونوں کی ہونے والی ملاقات میں دوستی کی بازگشت سنائی دی لیکن انسانی المیے پر مکمل خاموشی ناقابل قبول ہے۔امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے خواہش مند ڈیموکریٹک سینیٹربرنی سینڈرز نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے امریکہ کا عالمی لیڈر شپ کا کردار تہس نہس کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کا معاملہ ہونے والی ملاقات میں اٹھانا چاہئے تھا۔برنی سینڈرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ مطالبہ کریں اورزوردیں کہ کشمیر پرعائد پابندیاں اٹھائی جائیں اورمواصلاتی نظام کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارتی اقدامات انتہائی پریشان کن ہیں۔سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ ٹرمپ نے کشمیرمیں بھارتی اقدامات پر کوئی تنقید نہیں کی لیکن ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ

صدر امریکہ کو عالمی انسانی قوانین کی حمایت میں واضح طور پر بات کرنی ہوگی۔ڈیموکریٹک سینیٹر نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی منشا کے مطابق نکالا جائے۔ انہوں نے صدرڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں دونوں ممالک کے درمیان موجود تنازع کے پرامن حل کی حمایت کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…