بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی،وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدر ڈٹ گئے، دوٹوک اعلان کردیا

datetime 24  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اورمسلم لیگ(ن) کے صدرمحمدشہبازشریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ملک کی مجموعی،کشمیر کی صورتحال سمیت دیگرامور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔شہباز شریف نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت فوری کرفیو ہٹائے۔

مقبوضہ کشمیر میں زخمیوں کو طبی امداد میسر نہیں اورتعلیمی ادارے اور مارکیٹیں بند ہیں جس سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ جنگ کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے،جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،جنگیں ہمیشہ تباہی لے کر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ ہمیں سفارتی محاذ کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ (ن) ہر سطح پر کشمیری عوام کی ترجمانی کرے گی۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ شہباز شریف کو آزاد کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا ہے اور انہیں دورے کی دعوت دی ہے۔مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کشمیر کا موقف مجھے پیش کرنا دیا جائے تو میں زیادہ بہتر انداز میں پیش کر سکوں گا۔ کشمیریوں کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ ارباب اختیار سے امید ہے کہ وہ میری بات سنیں گے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی پاکستان کے مفاد کے خلاف ہو گی۔ کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی کوئی ضرورت نہیں۔ کشمیر کے مسئلے پر یو این او کی قراردادوں پرعملدرآمد ہونا چاہیے۔آزاد کشمیر کے لوگوں پر مقبوضہ کشمیر کی بارڈر لائن کراس کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…