بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مدینہ منورہ کے مضافاتی علاقے میں خونخوار چیتے نے تباہی پھیلا دی

datetime 23  ستمبر‬‮  2019 |

مدینہ منورہ( آن لائن )مدینہ منورہ کے مضافاتی علاقے البیضا میں ایک بپھرے ہوئے چیتے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ تفصیلات کے مطابق البیضا میں ایک فارم ہاس میں پالتو چیتا رکھا گیا تھا۔ گزشتہ روز فارم ہاس کے ملازم نے چیتے کو کھانا ڈالامگر باہر

آنے کے بعد پنجرے کا دروازہ بند کرنا بھول گیا۔ چیتے نے برسوں بعد یہ موقع دیکھ کر فورا پنجرے سے باہر چھلانگ لگائی اور پاس ہی کھڑے ملازم کو دبوچ کر اسے چند لمحوں میں ہی چیر پھاڑ ڈالا۔اتفاق سے اس وقت فارم ہاس میں دیگر ملازمین موجود نہیں تھے ورنہ مزید جانی نقصان ہو سکتا تھا۔ چیتے نے فارم ہاس میں موجودبکریوں اور دیگر جانوروں کو بھی مار کر اپنی بھوک مٹائی اور اس کے بعد فارم ہاس سے فرار ہو گیا۔جب چیتے کے فرار ہونے اور ہلاکتوں کی خبر آس پاس کے علاقے میں پھیلی تو لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے اور بچوں کو بھی گھر سے باہر نکلنے سے منع کر دیا۔تاہم بعد میں اہلِ علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت چیتے کو ڈھونڈ نکالا۔ اسی دوران وہاں پر وائلڈ لائف کے اہلکار بھی پہنچ گئے، مگر فارم ہاس کے ملازمین نے چیتے کو پہلے ہی پکڑ لیا تھا۔ اس واقعے پر علاقے کے لوگوں نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی آبادی والے علاقوں میں اس طرح کے خونخوار جانوروں کو رکھنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔ اگر یہ چیتا پکڑا نہ جاتا تو جانے اور کتنی انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا۔حکومت کو چاہیے تھے کہ اس فارم ہاس میں دوبارہ بند کیے گئے چیتے کو اپنی تحویل میں لے لے۔ تاکہ دوبارہ انسانی غفلت کی صورت میں کسی انسان یا جانور کی زندگی ضائع ہونے کا امکان نہ رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…