جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

امریکہ کی جانب سے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں کا الزام ایران پر عائد کئے جانے پر چین کا شدید ردعمل سامنے آ گیا، دو ٹوک اعلان

datetime 16  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سعودی عرب میں آئل ریفائنری پر حملے سے متعلق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا جس پر چین کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے، میڈیا ذرائع کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بغیر کسی جامع تحقیقات کے کسی کارروائی کے خلاف ہیں، چینی وزارت خارجہ کے مطابق کشیدگی میں اضافے کے کسی بھی اقدام کی حمایت نہیں کرتے، امریکہ اور ایران مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لئے احتیاط سے کام لیں،

واضح رہے کہ ایران نے سعودی تنصیبات پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کردی، ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ان حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر الزام لگانے سے یمن میں جاری المیہ ختم نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں پاکستان میں قائم ایرانی سفارت خانے سے جب رابطہ کیا گیا تو ایرانی سفارت خانے کی میڈیا سیکشن کی سربراہ ڈاکٹر ہاہینہ کریمی کیا کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والے تمام واقعات پر ایرانی وزارت خارجہ بذات خود جواب دیتا ہے، انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی جانب سے امریکی الزام کا جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے میں ملوث ہونے کی یکسر نفی کرچکے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے سوشل میڈیا پر ٹویٹر کے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیپیو ایران پر براہ راست دباؤ ڈالنے میں ناکام ہوچکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ یا اسکے حلیف یمن میں بری طرح پھنس چکے ہیں، ایران پر ایسے حملوں کے الزاما ت عائد کرنے سے معاملات حل نہیں ہونگے، امریکہ کیلئے بہتر ہوگا کہ وہ ایران کی جانب سے 15اپریل کو تجویز کردہ معاہدے پر غور کرے، دوسری جانب امریکہ نے بھی اس با ت کا عندیہ دیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھی ایران کے ساتھ بات چیت کرناممکن ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا امریکی حکام سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے حوالے واقف ہیں

تاہم وہ سعودی عرب کا جوا ب سننے کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان حملوں کا ذمہ دار کسے سمجھتے ہیں اور اس بارے میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد اس کی تیل پیدوار کی صلاحیت آدھی ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے سوموار کو تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا۔تاہم سعودی عرب کی جانب سے حوثی حملوں کے حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم رواں ماہ کے آخر میں نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکی صدر اور ایرانی صدر حسن روحانی کے مابین سائیڈ لائن ملاقات متوقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…