بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

پاک انڈیا میں بڑھتی کشیدگی ! بھارت بڑے نقصان سے دو چار ہو گیا ، بھارتی ماہر نے برطانوی نشریاتی ادارے کے سامنے مودی سرکار کا کٹھا چٹھا کھول کر رکھ دیا

datetime 4  ستمبر‬‮  2019 |

لندن( آن لائن )ماہ قبل انڈیا کی معیشت آٹھ فیصد کی رفتار سے ترقی کر رہی تھی جو کہ گرتے گرتے اب پانچ فیصد کی سطح تک جا پہنچی اور ایسا اچانک نہیں ہوا،بھارتی معیشت پانچ فیصد کے بجائے صفر کی رفتار سے ترقی کر رہی ہے ۔بھارتی ماہر معیشت پروفیسر ارون کمار نے

برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ چاروں طرف سے معاشی سست رفتاری کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ لدھیانہ میں سائیکلوں اور آگرہ میں جوتے جیسی صنعتوں سے وابستہ غیر منظم شعبے بڑی تعداد میں بند ہو چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہی حال دوسرے شعبوں کا ہے ، مانگ میں کمی تو ڈی موناٹئیزیشن کے بعد سے ہی شروع ہو گئی تھی، تین برسوں میں معیشت کو تین بڑے جھٹکے لگے ہیں جس کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے ۔سی ایم آئی کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ملک میں ملازمین کی تعداد 45 کروڑ تھی جو کم ہو کر 41 کروڑ رہ گئی ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ چار کروڑ لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں، معاشی ترقی کی شرح پانچ، چھ یا سات فیصد نہیں بلکہ یہ صفر فیصد ہے کیونکہ اس میں غیر منظم شعبے کے اعداد و شمار شامل نہیں لیکن اگر حکومت کے پیش کردہ اعداد و شمار کو غیر منظم شعبے کے اعدادوشمار میں شامل کیا جائے تو انڈین معیشت کساد بازاری سے گزر رہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…