بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی اداروں کی نا اہلی، آسام کی رہائشی ضمیرن،سپیلنگ کی غلطی سے غیرملکی بن گئی

datetime 2  ستمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی (اے این این) انڈیا کی ریاست آسام کی ضمیرن پروین کو شہریت کی حتمی فہرست یعنی این آر سی لسٹ کا بڑی بے صبری سے انتظار تھا۔ہفتے کو جب صبح 10 بجے این آر سی کی فہرست جاری کی گئی تو وہ بہت پر امید تھیں کہ ان کا نام اس فہرست میں ہوگا کیونکہ انھوں نے شہریت کے ثبوت میں سارے کاغذات جمع کیے تھے۔

لیکن حتمی فہرست میں ان کا نام نہیں تھا۔ضمیرن کی شہریت صرف اس لیے مشکوک ہوچکی ہے کیونکہ ان کے دو سرٹیفیکیٹس میں ان کے والد کے نام کی سپیلنگ الگ الگ ہیں۔ان کا تعلق ریاست آسام کے ضلع بارپیٹا سے ہے۔ وہ شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں ہیں۔ ان کے شوہر اعظم علی میردھا الیکٹریشن ہیں اور گوہاٹی میں رہتے ہیں۔اعظم کے لیے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان کے گھر کے سبھی لوگوں کا نام فہرست میں شامل ہے، سوائے ان کی بیوی کے۔ضمیرن نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک سال پہلے جب شہریت کی عبوری فہرست آئی تھی تو اس میں ان کا نام نہیں آیا تھا۔ اس وقت انھیں بتایا گیا تھا کہ ان کی پنچایت سرٹیفیکیٹ میں ان کے والد کا نام عتاب علی لکھا ہوا تھا لیکن ہائی سکول کے سرٹیفیکٹ میں عطار علی لکھا ہوا ہے۔سپیلنگ میں اس فرق کے سبب انھیں شہریت کی عبوری فہرست میں نہیں رکھا گیا۔ چنانچہ انھوں نے ولدیت ثابت کرنے کے لیے لیے مقررہ مدت میں اضافی کاغذات جمع کیے لیکن حتمی فہرست میں ان کا نام نہیں آیا۔ضمیرن کہتی ہیں کہ میرے شوہر، ان کے سبھی بھائیوں اور ان کی بیویوں اور ماں باپ، سبھی کے نام فہرست میں شامل ہیں۔ صرف میرا نام اس میں شامل نہیں ہے۔ میرا نام اس میں کیوں نہیں ہے؟ کیا سپیلنگ کی غلطی سے میں غیر ملکی ہو گئی؟

وہ بہت پریشان ہیں اور بات کرتے وقت رونے لگتی ہیں۔ وہ یہ سمبھنے سے قاصر ہیں کہ صرف نام میں معمولی سی غلطی سے انہیں شہریت سے محروم کیسے کیا جا سکتا ہے۔ضمیرن کہتی ہیں کہ انھوں نے ولدیت ثابت کرنے کے لیے لیے مقررہ مدت میں اضافی کاغذات جمع کیے لیکن حتمی فہرست میں ان کا نام نہیں آیا۔آسام میں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کی شناخت کے لیے ریاست کے سبھی شہریوں کی جو فہرست ہفتے کو جاری کی گئی ہے اس میں تقریبآ 19 لاکھ لوگوں کو شہریت سے خارج کر دیا گیا ہے۔ان سبھی کو اب ریاست کے قائم کردہ نیم عدالتی فارینرز ٹریبیونل میں چار مہینے کے اندر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن(بنگلہ دیشی)نہیں ہیں۔ضمیرن کو ان لاکھوں لوگوں کے ساتھ اب اپنی کھوئی شہریت اور قومیت کے لیے ایک بار پھر ایک پیچیدہ قانونی عمل سے گزرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…