بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

 امریکا نے ‘ایف 35’ طیارے نہ دیئے تو کیا ہوا؟ترکی نے متبادل حکمت عملی کا اعلان کردیا

datetime 31  اگست‬‮  2019 |

انقرہ(آن لائن) ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی دوسرے ملک سے جنگی طیارے خرید کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے ‘ایف 35’ طیارے نہ دیئے تو روس کے ‘SU-35 اور ‘SU-57’ طیارے خریدنے کے لیے

ماسکو سے بات کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ستمبر میں جنرل اسمبلی میں نیویارک میں ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں صدر طیب ایردوآن نے کہا کہ اگر امریکا نے ‘ایف 35’ طیاروں کے حوالے سے موجودہ موقف تبدیل نہ کیا تو ترکی کسی دوسرے ملک سے طیاروں کی ڈیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ روسی طیارے ‘SU-35’ اور ‘SU-57’ کے بارے میں ماسکو کے ساتھ بات چیت کی جا رہی ہے۔ ہم اپنے دفاع اور دفاعی صنعت کی ضرورت کیلیے ہر ملک سے بات کریں گے۔خیال رہے کہ جولائی میں امریکا نے اس وقت ترکی کو ‘ایف 35’ جنگی طیاروں کی فروخت روک دی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ترکی نے روس کا دفاعی نظام ‘ایس 400’ خرید کیا تھا۔امریکا نے زیر تربیت ترک ہوابازوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ واشنگٹن نے ترکی کے ساتھ ‘ایف 35’ طیاروں کی ڈیل منسوخ کرتے ہوئے ترکی کو اس پروگرام سے الگ کر دیا تھا۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی دوسرے ملک سے جنگی طیارے خرید کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے ‘ایف 35’ طیارے نہ دیئے تو روس کے ‘SU-35 اور ‘SU-57’ طیارے خریدنے کے لیے ماسکو سے بات کی جاسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…