بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مودی کی مسلمان دشمنی کی انتہا! آسام میں بسنے والے 19 لاکھ مسلمانوں کی شہریت ختم

datetime 31  اگست‬‮  2019 |

دیس پور(این این آئی) انتہا پسند بھارتی حکومت نے مسلمان دشمنی میں تمام حدیں پار کرتے ہوئے ریاست آسام میں بسنے والے 19 لاکھ مسلمانوں کی شہریت ختم کر دی ہے۔جن لوگوں کا نام فہرست میں شامل نہیں ہے انہیں 120 دن کے اندر اندر اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔

دوسری جانب اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بھارتی حکومت ان لوگوں کے ساتھ کیا کرنے جا رہی ہے۔مودی سرکار نے اس ضمن میں مؤقف اپنایا ہے کہ حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر بسنے والے بنگلہ دیشی تارکین وطن کی تصدیق کے لئے یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق انتہا پسند بھارتی حکومت نے مسلمان دشمنی میں تمام حدیں پار کرتے ہوئے ریاست آسام میں بسنے والے 19 لاکھ مسلمانوں کی شہریت ختم کر دی ،نیشنل رجسٹر سیٹیزن (این آرسی) وہ متنازع فہرست ہے جس میں لوگوں نے یہ شواہد حکومت کو دیئے ہیں کہ وہ 24 مارچ 1971 سے قبل شہر میں آئے تھے۔جن لوگوں کا نام فہرست میں شامل نہیں ہے انہیں 120 دن کے اندر اندر اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔دوسری جانب اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بھارتی حکومت ان لوگوں کے ساتھ کیا کرنے جا رہی ہے۔مودی سرکار نے اس ضمن میں مؤقف اپنایا کہ حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر بسنے والے بنگلہ دیشی تارکین وطن کی تصدیق کے لئے یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔گذشتہ برس ریاست کے شہریوں کی ایک عبوری فہرست جاری کی گئی تھی جس میں 40 لاکھ سے زیادہ باشندوں کو شہریت سے باہر رکھا گیا تھا۔انتہا پسند مودی سرکار نے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر شہر کی سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے ہزاروں پولیس اور فوجی اہلکاروں کو تعینات کررکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…