مقبوضہ کشمیر،صورہ میں پرتشدد جھڑپیں: انڈین سکیورٹی فورسز کا پیلٹ گن اور آنسو گیس کا استعمال، مظاہرین کا پتھراؤ،حالات مزید بگڑ گئے

  جمعہ‬‮ 23 اگست‬‮ 2019  |  21:50

لندن (آن لائن)انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے علاقے صورہ میں احتجاجی مظاہرے میں سیکڑوں افراد شریک ہوئے۔انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے علاقے صورہ میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے مظاہرے میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔بی بی سی  کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے انڈین سکیورٹی فورسز کو پیلٹ گن اور آنسو گیس کے شیل فائر کرتے جبکہ مظاہرین کو سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کرتے دیکھا گیا۔ ان جھڑپوں میں دو افراد کو زخمی حالت میں بھی دیکھا گیا ہے تاہم بی بی سی زخمی


ہونے والوں کی کل تعداد کی تصدیق نہیں کر سکتا۔سرینگر کے کسی اور علاقے سے تصادم کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔بی بی سی نے بتایا کہ دوپہر ایک بجے سے لوگ مرکزی درگاہ پر نماز جمعہ کے لیے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے جن میں مرد اور خواتین شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد اجتماع میں شریک سیکڑوں افراد نے کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کی اور پھر پرامن مظاہرہ شروع کیا۔بی بی سی کے مطابق یہ مظاہرہ آغاز میں پرامن رہا لیکن اس مظاہرے کے راستے میں ایک گلی سے سکیورٹی فورسز کی جانب سے داخلے کی کوشش میں یہ مظاہرہ پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہو گیا اور نوجوانوں نے پولیس کو روکنے کے لیے پتھراؤ شروع کر دیا۔بی بی سی کا کہنا تھا کہ یہ جھڑپیں دو گھنٹے تک جاری رہیں۔ ان کے مطابق صورہ میں مقامی افراد نے مرکزی بازار میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کا داخلہ روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب احتجاجی مارچ کی کال کی افواہ کے پیشِ نظر اس طرف جانے والے تمام راستوں کو بڑی رکاوٹیں لگا کر بند کیا گیا تھا۔دوسری طرف سرینگر کی مرکزی جامع مسجد درگاہ حضرت بل سے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ مقامی افرد کا کہنا ہے کہ آج یہاں نماز جمعہ کے کسی بڑے اجتماع کی اجازت نہیں دی گئی اور صرف مقامی افراد کو یہاں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی جبکہ اس دوران لاؤڈ سپیکر کے استعمال کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ بی بی سی کے مطابق قدغنوں، پابندیوں اور بندشوں کے باعث گذشتہ تین ہفتوں سے عام زندگی معطل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند دنوں میں ان پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی لیکن جمعہ کو دوبارہ سے حکام کی جانب سے ان بندشوں اور پابندیوں میں سختی کی گئی ہے۔خیال رہے کہ یہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مسلسل تیسرا جمعہ ہے جب وادی کی مرکزی جامع مساجد اور خانقاہوں میں نماز جمعہ کے اجتماع کی اجازت نہیں دی گئی۔بی بی سی  نے وادی میں موجود تاریخی جامع مسجد نوہٹہ سے بھی تفصیلات جاننے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی فورسز نے انھیں وہاں فلم بندی اور رپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ بی بی سی  کا کہنا تھا کہ ذرائع مواصلات بند ہونے کے باعث ملنے والی اطلاعات کے مطابق وادی کشمیر کے دیگر علاقوں پلوامہ، اننت ناگ، شوپیاں، بارہ مولہ، کلگرام سمیت کپواڑہ میں مرکزی جامع مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات کی اجازت نہیں دی گئی۔’ان پابندیوں میں سختی کی وجہ حکومت نے یہ بتائی کہ گذشتہ ایک دو دن سے وادی میں کچھ افواہیں پھیل رہی تھیں اور ایسے پوسٹر آویزاں کیے گیے تھے جن میں علیحدگی پسند قیادت کی جانب سے لوگوں کو اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفتر کی جانب سے احتجاجی مارچ کرنے کا کہا تھا۔حکومت کا کہنا ہے کہ سنیچر سے دوبارہ پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔ انتظامیہ نے مظاہرین کو روکنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفتر کی طرف جانے والے پانچ میں سے چار راستے جمعرات کی رات سے ہی بند کر دیے تھے۔مظاہرے کی یہ کال صورہ سمیت بعض علاقوں میں چسپاں کیے جانے والے علیحدگی پسندوں سے منسوب غیر مصدقہ پوسٹرز کی مدد سے دی گئی جن میں کشمیریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ حکومت کے فیصلے کے خلاف نمازِ جمعہ کے بعد سرینگر میں اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن کے دفتر تک جلوس نکالیں۔ واضح  رہے کہ شہر میں لاک ڈاؤن کے آغاز کے بعد صورہ کے مقام پر ہی انڈیا مخالف احتجاج میں مظاہرین پر پولیس کی شیلنگ اور چھرے لگنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ پانچ اگست میں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے اور اس سے پہلے سے وادی میں جاری سکیورٹی لاک ڈاؤن کے بعد پہلا موقع ہے کہ ایسی کوئی اپیل سامنے آئی ہے۔نامہ نگار کے مطابق جمعے کو وادی میں مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور وہ علاقے جہاں مظاہرے نہ ہونے کی اطلاعات ہیں وہاں سے اہلکاروں کو نکال کر ایسے علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے جہاں ایسا ہونے کا خطرہ ہے۔ چار پانچ روز قبل وادی میں لینڈ لائن سروس کو بحال کر دیا گیا تھا مگر آج خدشات کے باعث حساس علاقوں میں ایک مرتبہ پھر سے لینڈ لائن کو منقطع کر دیا گیا ہے اور ایسا کرنے کا ایک ہی مقصد ہے تاکہ مظاہرین آپس میں کسی طرح کا رابطہ نہ کر پائیں۔ مظاہروں کے حوالے سے سب سے مشہور علاقہ سرینگر کا نوا اڈا ایریا ہے جہاں سرینگر کی مشہور جامع مسجد واقع ہے۔ یہاں حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ جمعہ کا خطبہ دیتے ہیں اور عام طور پر نماز کے بعد حکومت مخالف جلوس اسی مسجد سے نکلتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب درگاہ حضرت بل ہے جس پر نیشنل کانفرنس کا رنگ نمایاں ہوتا ہے اور چونکہ نیشنل کانفرنس کے سب ہی رہنما بشمول عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ نظر بند ہیں اس لیے وہاں سے بھی جلوس نکلنے کا خدشہ موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کے روز نہ صرف ان علاقوں میں ناکہ بندیاں کی گئیں ہیں جو علیحدگی پسندوں کے زیراثر ہیں بلکہ ان علاقوں میں بھی جو ہند نواز رہنماؤں کے ہمنوا ہیں۔ اگرچہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عام حالات میں بھی جمعے کے روز سکیورٹی کے انتظامات عام دنوں کی نسبت تھوڑے زیادہ کیے جاتے ہیں لیکن 23 اگست کو صورتحال ویسے ہی غیرمعمولی ہے کیونکہ گذشتہ تین ہفتوں سے وادی میں کشیدگی کا ماحول ہے۔' اگرچہ پہلے ہی سے کشمیر میں سخت ناکہ بندی تھی مگر آج انتظامیہ کی طرف سے مزید انتظامات کیے گئے ہیں۔'ایسے تمام علاقے جہاں سے جلوس نکلنے کے خدشات تھے وہاں آنے اور جانے کے تمام راستوں پر ناکہ بندی کی گئی ہے۔'کشمیر میں تمام اضلاع کی بڑی مساجد جیسے سرینگر،شوپیاں، اننت ناگ، پلوامہ، کپواڑہ اور درگاہ حضرت بل کی جامع مساجد معمول کے حالات میں کھلی رہتی ہیں مگر غیر معمولی حالات میں ان بڑی مساجد کو بند کر دیا جاتا ہے۔صورہ کے مقام پر ہی انڈیا مخالف احتجاج میں مظاہرین پر پولیس کی شیلنگ اور چھرے لگنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے تھے'جب حالات نارمل نہیں ہوتے تو ان مساجد میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اب عوام کو کہا جا رہا ہے کہ بستیوں کے اندر موجود چھوٹی چھوٹی مساجد میں نماز ادا کی جائے۔ ایسا ہی عیدالاضحی کے موقع پر بھی کیا گیا تھا اور کشمیر میں عید کا کوئی بھی بڑا اور مرکزی اجتماع منعقد نہیں ہونے دیا گیا تھا۔'ادھر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے انڈیا سے اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں ذرائع مواصلات کی بندش ختم کرنے اور پرامن مظاہروں کے خلاف کارروائیاں روکنے کا کہا ہے۔انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ ہائی کمشنر کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری بیان کے مطابق ادارے سے منسلک ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ریاست جموں اور کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد پابندیوں کے نفاذ کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔یہ بیان ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کشمیر سے آنے والی خبروں کے مطابق رواں ماہ کی چار تاریخ سے جموں اور کشمیر میں مواصلات کا نظام تقریباً مکمل طور بند ہے اور انٹرنیٹ، موبائل، لینڈ لائن اور کیبل نیٹ ورک کی سروس بھی منقطع کر دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ’حکومت کا انٹرنیٹ اور مواصلات کے نظام کو بغیر کسی وجہ کے بند کرنا ضرورت اور متناسبیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔’یہ بندش جموں اور کشمیر کے لوگوں کو بغیر کسی جرم کے اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔‘حکومت نے مختلف اوقات میں جموں اور کشمیر میں کرفیو بھی نافذ کر رکھا تھا اور بھاری تعداد میں فوجی دستے نقل و حرکت اور پرامن مظاہروں کو روکنے کے لیے کشمیر کی وادی میں بلا لیے تھے۔وادی سے ملنے والی معلومات کے مطابق سیاسی رہنماؤں، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مظاہرے کرنے والوں کی گرفتاریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اب تک چار ہزار سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے آنے والی خبروں سے سخت پریشان ہیں کہ سکیورٹی اہلکار رات میں گھروں پر چھاپے مار رہے ہیں اور توجوانوں کو گرفتار کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق، ’یہ گرفتاریاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتی ہیں اور حکام کی جانب سے ان الزامات کی باقاعدہ تفتیش کرنا ضروری ہے اور اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔‘ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ان الزامات کے حوالے سے فکر مند ہیں جن کے مطابق کچھ گرفتار کیے گئے لوگوں کو کہاں رکھا گیا ہے کچھ معلوم نہیں اور جبری گمشدگیوں کا بھی خدشہ ہے۔ اجتماعی گرفتاریوں اور ذرائع مواصلات کی بندش کے باعث ان میں بھی مزید اضافے کا خدشہ ہے۔‘انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال بدستور خراب ہے اور حکومتی اعلان کے باوجود سکولوں میں تدریسی عمل شروع نہیں ہو سکا ہے انھوں نے مظاہرین کے خلاف حد سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا جس میں گولیوں کا استعمال بھی شامل ہے جس کے باعث ہلاکتوں کا امکان ہے۔اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کم سے کم کرے اور ہتھیاروں کے استعمال صرف اس وقت کیا جائے جب جانی نقصان کا خدشہ ہو۔‘ادھر نسل کشی کے واقعات پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم جینوسائیڈ واچ نے جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کْشی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں ایسے کئی اشارے مل رہے ہیں جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں حالات نسل کْشی کی طرف جا رہے ہیں۔جینو سائیڈ تنظیم نے نسل کْشی پر تحقیقی کام کرنے والی ماہر پروفیسر باربرا ہارف کی نسل کْشی کے حالات کی علامتوں کی فہرست کا کشمیر پر اطلاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر اس وقت نسل کْشی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ان علامتوں میں نسل کْشی سے پہلے کے غارت گری، تصادم کے واقعات کا تکرار کے ساتھ ہونا، انتہا پسند ہندوتوا کے نظریے کا فروغ پانا، فوجی کنٹرول کا ہونا اور ذرائع مواصلات اور ابلاغ کو بند کردینا وغیرہ شامل ہیں۔

موضوعات:

loading...