منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

فلسطینی مشیرکی القدس کی زیارت بارے قطری عالم دین کے فتوے کی تائید

datetime 21  اگست‬‮  2019 |

دوحہ (این این آئی)قطر کی بین الاقوامی علماء کونسل کے چیئرمین الشیخ احمد الریسونی نے اسرائیل کے زیرتسلط مقبوضہ بیت المقدس اور حرم قدسی کی زیارت کو جائز قراردیا ہے۔ دوسری طرف فلسطینی صدر کے مشیر محمود الھباش نے علامہ الریسونی کے موقف کی تائید کی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق محمود الھباش نے قطری عالم دین علامہ یوسف القرضاوی کے ایک سابقہ فتوے پرتنقید کی جس میں انہوں نے

بیت المقدس میں اسرائیل کے تسلط کے خاتمے تک القدس اور مسجد اقصیٰ کی زیارت کو حرام قرار دیا تھا۔خیال رہے کہ اسرائیلی زیرتسلط القدس اور مسجد اقصیٰ کی زیارت کے حوالے سے علماء میں دو الگ الگ آراء پائی جاتی ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے مشیر کا کہنا تھا کہ علامہ یوسف القرضاوی کے فتوے کے نتیجے میں عرب اور عالم اسلام کی طرف سے القدس کے ساتھ اظہار یکجہتی کی مساعی پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور مسلمانوں کو رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ نئے فتوے پرحماس کے مفتی مروان ابو راس نے بھی حمایت کی کرتیہوئے اس پر فوری غور کی ضرورت پر زاور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ یوسف القرضاوی، قطری علماء فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر علی القری داغی اور مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ عکرمہ صبری نے اسرائیلی تسلط کیہوتیہوئے حرم قدسی کی زیارت کو حرام قراردیا گیا اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ اسرائیلی تسلط میں القدس کی زیارت صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش تصور کی جائے گی۔قطری دارالحکومت دوحا میں ایک بیان میں علامہ الریسونی کہا کہ القدس کی زیارت کی حرمت کے فتوے میں تبدیلی وقت کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں قطری حکومت کے سرکاری موقف کی تائید کرنی چاہیے کیونکہ امریکا کے مشرق وسطیٰ میں امن منصوبے سنچری ڈیل میں قطرنے تعاون کا یقین دلایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…