منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

تعصب کی انتہا، مسلمان ٹی وی اینکر کو دیکھ کر ہندو پنڈت نے آنکھیں بند کرلیں

datetime 4  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی(آئی این پی) جنونی ہندوؤں کی انتہا پسند تنظیم ہم ہندو کے بانی پنڈت اجے گوتم نے گزشتہ روز ایک بھارتی ٹی وی چینل پر ہونے والی بحث کے دوران اس وقت اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا جب ان کے سامنے ایک مسلمان ٹی وی اینکر آگیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پروائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مباحثہ ختم ہوتے ہی جب دوسرے پروگرام کی ابتدا میں مسلمان اینکر سعود محمد خالد ٹی وی سکرین پر آتے ہیں تو پنڈت گوتم اپنی نفرت کے اظہار کے لیے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتا ہے۔انسان اور انسانیت پر یقین رکھنے والے بھارتیوں کی اکثریت گزشتہ روز سے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر استفسار کررہی ہے کہ کیا کوئی شخص اس حد تک بھی کسی سے اتنی نفرت کرسکتا ہے کہ اسے سکرین پہ دیکھ کر آنکھیں ہی بند کرلے۔بھارت کے متعدد افراد نے انسانیت سے گری ہوئی نفرت انگیز حرکت پر نیوز 24 کی انتظامیہ سے باقاعدہ یہ پوچھا کہ انہوں نے ایسے شخص کو اپنے سٹوڈیو میں کیوں بلایا؟ اور جب اس نے ایسی حرکت کی تو اسے نیوز روم سے دھکے دے کر کیوں نہیں نکالا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر عوام الناس کی جانب سے ہونے والی سخت تنقید اور اظہار مذمت کے بعد نیوز 24کی پروموٹر انو رادھا پرساد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پنڈت گوتم کی گری ہوئی حرکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ اسے سٹوڈیو میں نہیں بلایا جائے گا۔انورادھا پرساد نے کہا کہ اجے گوتم کے نامناسب رویے کے باعث صدمے میں ہوں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ صحافت کی اخلاقیات ایسی بھدی و مکروہ آوازوں اور اشاروں کو سٹوڈیو میں بلانے کی اجازت نہیں دیتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…